تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 282

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۲ سورة النجم وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى کا بھی یہی مطلب ہے۔ جب کبھی خدا تعالیٰ کا کوئی نشان زمین پر ظاہر ہونے والا ہوتا ہے تو اس سے پہلے آسمان پر کچھ آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے مفسر اور اہل کشف بھی یہی بیان کرتے ہیں اور قرآن شریف میں بھی یہی لکھا ہے ۔ مجھے ایک خط آیا تھا کہ ایک ستارہ ٹوٹا جس سے بہت روشنی ہوگئی 66 اور پھر ایسی خطرناک آواز آئی کہ لوگ دہشت ناک ہو گئے اور بڑا خوف ہوا ۔ اور پھر نہیں معلوم کہ آئندہ ابھی کیا کیا ہونے والا ہے۔ آئے دن نئے نئے حوادث ہوتے رہتے ہیں ۔ کوئی سال ایسا نہیں گزرتا جس میں کوئی نہ کوئی حادثہ واقع نہ ہو۔ ستاروں کا ٹوٹنا ظاہر کرتا ہے کہ زمین پر بھی اب کچھ نشانات ظاہر ہونے والے ہیں اور پھر خدا نے بھی مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ میں بہت سے عجیب نشان ظاہر کروں گا کچھ اول میں اور کچھ آخر میں ۔ زلزلہ کی خبر بھی اس نے دی ہے ۔ گذشتہ کی نسبت زیادہ سخت طاعون پڑنے کی بھی اطلاع دی ہے ۔ معلوم نہیں کہ اس سال وہ خطرناک طاعون پڑے گی یا آئندہ سال میں مگر وہ خطرناک بہت ہوگی ۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۴) يوحى ذرہ سوچنا چاہیئے کہ جس آفتاب صداقت کے حق میں یہ آیت ہے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وحی یوحی یعنی اُس کا کوئی نطق اور کوئی کلمہ اپنے نفس اور ہوا کی طرف سے نہیں وہ تو سراسر وحی ہے جو اُس کے دل پر نازل ہو رہی ہے اس کی نسبت کیا ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ مدتوں نو روحی سے بکلی خالی ہی رہ جاتا تھا۔ مثلاً یہ جو منقول ہے کہ بعض دفعہ چالیس دن اور بعض دفعہ ہمیں دن اور بعض دفعہ اس سے زیادہ ساٹھ دن تک بھی وحی نازل نہیں ہوئی ۔ اگر اس عدم نزول سے یہ مراد ہے کہ فرشتہ جبرائیل بگلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عرصہ تک چھوڑ کر چلا گیا تو یہ سخت اعتراض پیش آئے گا کہ اس مدت تک جس قدر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باتیں کیں کیا وہ احادیث نبویہ میں داخل نہیں تھیں اور کیا وحی غیر متلو اُن کا نام نہیں تھا اور کیا۔ اس عرصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خواب بھی نہیں آتی تھی اور اگر ۔۔۔۔۔ یہ بات صحیح ہے کہ ضرور مدتوں جبرائیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھی چلا جاتا تھا اور آنحضرت بکلی وحی سے خالی رہ جاتے تھے تو بلا شبہ ان دنوں کی احادیث ۔۔۔ قابلِ اعتبار نہیں ہوں گی کیونکہ وحی کی روشنی سے خالی ہیں۔۔۔ وہ آفتاب صداقت جس کا کوئی دل کا خطرہ بھی بغیر وحی کی تحریک کے نہیں اُس کے بارے میں ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ گویا وہ نعوذ باللہ مدتوں ظلمت میں بھی پڑا رہتا تھا اور اُس کے ساتھ کوئی روشنی نہ تھی ۔ اِس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام ---