تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 269
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۹ سورة الثريت تھا وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ بلکہ ایک دفعہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تجویز فرمایا کہ اگر شکست ہو تو آپ کو جلد مدینہ پہنچادیا جاوے اصل بات یہ ہے کہ قوی الایمان کی نظر استغناء الہی پر ہوتی ہے اور اسے خوف ہوتا ہے کہ خدا کے وعدوں میں کوئی ایسی مخفی شرط نہ ہو جس کا اسے علم نہ ہو جو لوگ تدابیر کے سلسلہ کو بالکل بالکل باطل ٹھہراتے ہیں ان میں ایک زہریلا مادہ ہوتا ہے ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اگر بلا آوے تو دیدہ دانستہ اس کے آگے جا پڑیں اور جس قدر پیشہ والے اور اہل حرفت ہیں وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاویں۔ البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه ۵) فرمایا ہے کہ فِي السَّمَاءِ رِزْقُكُم جس کا مطلب یہی ہے کہ رزق تمہارا تمہاری اپنی محنتوں اور کوششوں اور منصوبوں سے وابستہ نہیں وہ اس سے بالاتر ہے۔ البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ء صفحه ۵) میرے نزدیک سب سے بڑے مشرک کیمیا گر ہیں کہ یہ رزق کی تلاش میں یوں مارے مارے پھرتے ہیں اور ان اسباب سے کام نہیں لیتے جو اللہ تعالیٰ نے جائز طور سے رزق کے حصول کے لئے مقرر کئے ہیں اور نہ پھر تو کل کرتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ فِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ ( اور آسمان میں ہے تمہارا رزق اور جو کچھ تم وعدہ دیئے جاتے ہو۔ (اخبار بدر جلد ۶ نمبر ۷ ۱ مورخه ۲۵ را پریل ۱۹۰۷ء صفحه ۸ ) اللہ تعالی بہتر جانتا ہے اگر ہمارے پاس کبھی کچھ ہو تو دوسرے دن سب خرچ ہو جاتا ہے جو کچھ ہوتا ہے جماعت کا ہوتا ہے اور وہ بھی لنگر خانہ میں خرچ ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات کچھ بھی نہیں رہتا اور ہمیں غم پیدا ہوتا ہے تب خدا تعالیٰ کہیں سے بھیج دیتا ہے۔ اکثر لوگ خدا تعالیٰ کی پوری پوری قدر نہیں سمجھتے وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ (الانعام : ۹۲) خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے وَ فِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ ۔ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۹) ہر ایک انسان کو خدا تعالیٰ اپنے پاس سے روزی دیتا ہے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۰ مورخه ۱۸ مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۷ ) فَفِرُّوا إِلَى اللهِ إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ ۔ سو تم خدا تعالیٰ کی طرف بھاگو۔ ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۹) كَذلِكَ مَا آتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِم مِّنْ رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ ۔ (۵۳)