تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 268

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۸ سورة الذريت زبان سے بول کر انکار نہیں کر سکتے ۔ جب کہ اس قسم کے وعدے اللہ تعالیٰ نے فرمائے ہیں ۔ پھر باوجود ان وعدوں کے دیکھا جاتا ہے کہ کئی آدمی ایسے دیکھے جاتے ہیں جو صالح اور متقی نیک بخت ہوتے ہیں اور ان کا شعار اسلام صحیح ہوتا ہے مگر وہ رزق سے تنگ ہیں ۔ رات کو ہے تو دن کو نہیں اور دن کو ہے تو رات کو نہیں ۔۔۔۔ غرض یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں ، مگر تجربہ دلالت کرتا ہے کہ یہ امور خدا کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے ۔ ہمارا یہ مذہب کہ وہ وعدے جو خدا تعالیٰ نے کئے ہیں کہ متقیوں کو خود اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں بیان کیا ہے۔ یہ سب سچ ہیں اور سلسلہ اہل اللہ کی طرف دیکھا جاوے تو کوئی ابرار میں سے ایسا نہیں ہے کہ بھوکا مرا ہو۔ مومنوں نے جن پر شہادت دی اور جن کو اتقیامان لیا گیا ہے۔ یہی نہیں کہ وہ فقر وفاقہ سے بچے ہوئے تھے۔ گو اعلیٰ درجہ کی خوشحالیاں نہ ہوں ، مگر اس قسم کا اضطراری فقر وفاقہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ عذاب محسوس کریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر اختیار کیا ہوا تھا۔ مگر آپ کی سخاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود آپ نے اختیار کیا ہوا تھا، نہ کہ بطور سز ا تھا۔ غرض اس راہ میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔ بعض ایسے لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ بظاہر متقی اور صالح ہوتے ہیں مگر رزق سے تنگ ہوتے ہیں ۔ ان سب حالات کو دیکھ کر آخر یہی کہنا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے تو سب سچ ہیں لیکن انسانی کمزوری ہی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ جو کچھ تم کو وعدہ دیا گیا ہے اور تمہارا رزق آسمان پر ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۲ء صفحه ۵) (البدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۲) وَ فِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ سے ایک نادان دھوکا کھاتا ہے اور تدابیر کے سلسلہ کو باطل کرتا ہے حالانکہ سورہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ ( الجمعة : ١١ ) کہ تم زمین میں منتشر ہو جاؤ اور خدا کے فضل کی تلاش کرو۔ یہ ایک بہت ہی نازک معاملہ ہے کہ ایک طرف تدابیر کی رعایت ہو اور دوسری طرف تو کل بھی پورا ہو۔ اور اس کے اندر شیطان کو وساوس کا بڑا موقعہ ملتا ہے ( بعض لوگ ٹھوکر کھا کر اسباب پرست ہو جاتے ہیں اور بعض خدا تعالیٰ کے عطا کردہ قومی کو بیکار محض خیال کرنے لگ جاتے ہیں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ کو جاتے تو طیاری کرتے۔ گھوڑے، ہتھیا ر بھی ساتھ لیتے بلکہ آپ بعض اوقات دو دوزرہ پہن کر جاتے۔ تلوار بھی کمر سے لڑکاتے حالانکہ ادھر خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا