تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 238
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ثابت کریں ۔ ۲۳۸ سورة الفتح اربعین نمبر ۴ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۵۱) خدا تجھے ایک بڑی اور کھلی کھلی فتح دے گا تا کہ وہ تیرے پہلے گناہ بخشے اور پچھلے گناہ بھی۔ اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ فتح کو گناہ کے بخشنے سے کیا تعلق ہے۔ بظاہر ان دونوں فقروں کو آپس میں کچھ جوڑ نہیں۔ لیکن در حقیقت ان دونوں فقروں کا باہم نہایت درجہ کا تعلق ہے۔ پس تشریح اُس وحی الہی کی یہ ہے کہ اس اندھی دنیا میں جس قدر خدا کے ماموروں اور نبیوں اور رسولوں کی نسبت نکتہ چینیاں ہوتی ہیں اور جس قدر ان کی شان اور اعمال کی نسبت اعتراض ہوتے ہیں اور بدگمانیاں ہوتی ہیں اور طرح طرح کی باتیں کی جاتی ہیں وہ دنیا میں کسی کی نسبت نہیں ہوتیں اور خدا نے ایسا ہی ارادہ کیا ہے تا اُن کو بد بخت لوگوں کی نظر سے مخفی رکھے اور وہ ان کی نظر میں جائے اعتراض ٹھہر جائیں کیونکہ وہ ایک دولت عظمی ہیں اور دولت عظمی کو نا اہلوں سے پوشیدہ رکھنا بہتر ہے۔ اسی وجہ سے خدائے تعالیٰ اُن کو جوشقی از لی ہیں اُس برگزیدہ گروہ کی نسبت طرح طرح کے شبہات میں ڈال دیتا ہے تا وہ دولتِ قبول سے محروم رہ جائیں ۔ یہ سنت اللہ ان لوگوں کی نسبت ہے جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے امام اور رسول اور نبی ہو کر آتے ہیں۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۸۹) ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح دی ہے یعنی دیں گے۔ (کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۱۰) إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ تَكَتَ فَإِنَّمَا يَنْكُتُ عَلَى نَفْسِهِ وَ مَنْ أَوْفَى بِمَا عُهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ اَجْرًا عَظِيمًا جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ واضح ہو کہ جولوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کیا کرتے تھے اور مردوں کے لئے یہی طریق بیعت کا ہے سو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے بطریق مجاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کو اپنی ذات اقدس ہی قرار دے دیا اور ان کے ہاتھ کو اپنا ہا تھ قرار دیا۔ یہ کلمہ مقام جمع میں ہے جو بوجہ نہایت قرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بولا گیا ہے۔ (سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۷۵ حاشیه )