تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 237
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۲۳۷ سورة الفتح بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الفتح بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا ہم نے تجھ کو کھلی کھلی فتح عطا فرمائی ہے یعنی عطا فرمائیں گے اور درمیان میں جو بعض مکروہات و شدائد ہیں وہ اس لئے ہیں تا خدائے تعالیٰ تیرے پہلے اور پچھلے گناہ معاف فرمادے یعنی اگر خدائے تعالیٰ چاہتا تو قادر تھا کہ جو کام مد نظر ہے وہ بغیر پیش آنے کے کسی نوع کی تکلیف کے اپنے انجام کو پہنچ جاتا اور بآسانی فتح عظیم حاصل ہو جاتی لیکن تکالیف اس جہت سے ہیں کہ تا وہ تکالیف موجب ترقی مراتب و مغفرت خطایا ہوں ۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۵ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) حدیبیہ کے قصہ کو خدا تعالیٰ نے فتح مبین کے نام سے موسوم کیا ہے اور فرمایا ہے إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مبينا وہ فتح اکثر صحابہ پر بھی مخفی تھی بلکہ بعض منافقین کے ارتداد کا موجب ہوئی مگر دراصل وہ فتح مبین تھی گو اُس کے مقدمات نظری اور عمیق تھے۔ (انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۹۰) ہم نے ایک فتح عظیم جو ہماری طرف سے ایک عظیم الشان نشان ہے تجھ کو عطا کی ہے تا ہم وہ تمام گناہ جو تیری طرف منسوب کئے جاتے ہیں ان پر اس فتح نمایاں کی نورانی چادر ڈال کر نکتہ چینوں کا خطا کا ر ہونا