تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 227

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۷ سورة محمد که طاعون سے محفوظ ہو۔ اسی طرح پر جب تک یہ چوہے اندر ہیں اس وقت تک ایمان خطرہ میں ہے۔ جو کچھ میں کہتا ہوں اس کو خوب غور سے سُنو اور اس پر عمل کرنے کے لئے قدم اُٹھاؤ۔ میں نہیں جانتا کہ اس مجمع میں جو لوگ موجود ہیں آئندہ ان میں سے کون ہوگا اور کون نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے تکلیف اُٹھا کر اس وقت کچھ کہنا ضروری سمجھا ہے تا میں اپنا فرض ادا کر دوں ۔ پس کلمہ کے متعلق خلاصہ تقریر کا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا معبود اور محبوب اور مقصود ہو۔ اور یہ مقام اسی وقت ملے گا جب ہر قسم کی اندرونی بدیوں سے پاک ہو جاؤ گے اور اُن کو جو تمہارے دل میں ہیں نکال دو گے۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ء صفحه ۳ تا ۵ ) اللہ تعالیٰ حکیم ہے اس نے ایک مختصر سا کلمہ سنا دیا ہے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ جب تک خدا کو مقدم نہ کیا جاوے۔ جب تک خدا کو معبود نہ بنا یا جاوے۔ جب تک خدا کو مقصود نہ ٹھہرایا جاوے انسان کو نجات حاصل نہیں ہو سکتی۔ البدر جلد ۶ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۱) خدا تعالیٰ الفاظ سے تعلق نہیں رکھتا وہ دلوں سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ در حقیقت اس کلمہ کے مفہوم ے مفہوم کو اپنے دل میں داخل کر لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عظمت پورے رنگ کے ساتھ اُن کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے وہ جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ جب کوئی شخص سچے طور پر کلمہ کا قائل ہو جاتا ہے تو بجز خدا کے اور کوئی اس کا پیارا نہیں رہتا۔ بجز خدا کے کوئی اس کا معبود نہیں رہتا اور بجز خدا کے کوئی اس کا مطلوب باقی نہیں رہتا ۔ وہ مقام جو ابدال کا مقام ہے اور وہ جو قطب کا مقام ہے اور وہ جو غوث کا مقام ہے وہ یہی ہے کہ کلمہ لا اله الا اللہ پر دل سے ایمان ہو اور اس کے سچے مفہوم پر عمل ہو۔ البدر جلد ۶ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه (۱۱) خدا کے واحد ماننے کے ساتھ یہ لازم ہے کہ اس کی مخلوق کی حق تلفی نہ کی جاوے جو شخص اپنے بھائی کا حق تلف کرتا ہے اور اس کی خیانت کرتا ہے وہ لا الہ الا اللہ کا قائل نہیں ۔ البدر جلد ۶ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه (۱۲) نبیوں کے استغفار کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ خدا کے فضل کا ہاتھ اُن پر رہے ورنہ اگر انسان اپنے نفس پر چھوڑا جاوے تو وہ ہرگز معصوم اور محفوظ نہیں ہو سکتا اللهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَ بَيْنَ خَطَايَايَ اور دوسری دعا ئیں بھی استغفار کے اس مطلب کو بتلاتی ہیں۔ عبودیت کا سر یہی ہے کہ انسان خدا کی پناہ کے نیچے