تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 226
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۶ سورة محمد بہادری ہے اور اُن کو شناخت کرنا ہی کمال دانائی اور دانشمندی ہے ۔ یہی بت ہیں جن کی وجہ سے آپس میں نفاق پڑتا ہے اور ہزاروں گشت وخون ہو جاتے ہیں۔ ایک بھائی دوسرے کا حق مارتا ہے اور اسی طرح ہزاروں ہزار بدیاں اُن کے سبب سے ہوتی ہیں۔ ہر روز اور ہر آن ہوتی ہیں اور اسباب پر اس قدر بھروسہ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کو محض ایک عضو معطل قرار دے رکھا ہے ۔ بہت ہی کم لوگ ہیں جنہوں نے توحید کے اصل مفہوم کو سم فہوم کو سمجھا ہے۔ اور اگر انہیں کہا جاوے تو جھٹ کہہ دیتے ہیں کیا ہم مسلمان نہیں اور کلمہ اور کلمہ نہیں پڑھتے ؟ مگر افسوس تو یہ ہے کہ انہوں نے اتنا ہی سمجھ لیا ہے کہ بس کلمہ منہ سے پڑھ دیا اور یہ کافی ہے۔ میں یقیناً کہتا ہوں کہ اگر انسان کلمہ طیبہ کی حقیقت سے واقف ہو جاوے اور عملی طور پر اس پر کار بند ہو جاوے تو وہ بہت بڑی ترقی کر سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کا مشاہدہ کر سکتا ہے ۔ یہ امر خوب سمجھ لو کہ میں جو اس مقام پر کھڑا ہوں۔ میں معمولی واعظ کی حیثیت سے نہیں کھڑا ہوں اور کوئی کہانی منانے کے لئے نہیں کھڑا ہوں بلکہ میں تو ادائے شہادت کے لئے کھڑا ہوں میں نے وہ پیغام جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے، پہنچا دینا ہے۔ اس امر کی مجھے پروا نہیں کہ کوئی اُسے سنتا ہے یا نہیں سنتا اور مانتا ہے یا نہیں مانتا ۔ اس کا جواب تم خود دو گے۔ میں نے فرض ادا کرنا ہے ۔ میں جانتا ہوں بہت سے لوگ میری جماعت میں داخل تو ہیں اور وہ تو ۔ وہ توحید کا اقرار بھی کرتے ہیں مگر میں افسوس سے کہتا ہوں کہ وہ مانتے نہیں۔ جو شخص اپنے بھائی کا حق مارتا ہے یا خیانت کرتا ہے یا دوسری قسم کی بدیوں سے باز نہیں آتا۔ میں یقین نہیں کرتا کہ وہ توحید کا ماننے والا ہے کیونکہ یہ ایک ایسی نعمت ہے کہ اس کو پاتے ہی انسان میں ایک خارق عادت تبدیلی ہو جاتی ہے ۔ اس میں بغض ، کینہ ، حسد، ریا وغیرہ کے بہت نہیں رہتے اور خدا تعالیٰ سے اس کا قرب ہوتا ہے ۔ یہ تبدیلی اسی وقت ہوتی ہے اور اسی وقت وہ سچا موحد بنتا ہے۔ جب یہ اندرونی بت تکبر ، خود پسندی، ریا کاری، کینہ و عداوت، حسد و بخل ، نفاق و بد عہدی وغیرہ کے دور ہو جاویں۔ جب تک یہ بہت اندر ہی ہیں ۔اس وقت تک لا إله إلا اللہ کہنے میں کیوں کر سچ ٹھیر سکتا ہے؟ کیونکہ اس میں تو کل کی نفی مقصود ہے پس یہ پکی بات ہے کہ صرف منہ سے کہہ دینا کہ خدا کو وحدہ لاشریک مانتا ہوں کوئی نفع نہیں دے سکتا ۔ ابھی منہ سے کلمہ پڑھتا ہے اور ابھی کوئی امر ذرا مخالف مزاج ہوا اور غصہ اور غضب کو خدا بنالیا۔ - میں بار بار کہتا ہوں کہ اس امر کو ہمیشہ یا درکھنا چاہیے کہ جب تک یہ مخفی معبود موجود ہوں ہرگز توقع نہ کرو کہ تم اس مقام کو حاصل کر لو گے جو ایک سچے موحد کو ملتا ہے جیسے جب تک چوہے زمین میں ہیں مت خیال کرو