تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 216

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام أَوْلِيَاءَ أُولَئِكَ فِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ ۲۱۶ سورة الاحقاف اور جو شخص اس کے قبول کرنے سے انکار کرے وہ خدا کو اپنا غلبہ ظاہر کرنے سے روک نہیں سکے گا اور خدا کے مقابلہ پر اس کا کوئی حمایتی نہیں۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۷ ۲۴ حاشیہ نمبر ۱۱) فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلُ لَّهُمْ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَّهَارٍ بَلَغَ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَسِقُونَ ) فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ ۔۔۔سواولو العزم نبیوں کی طرح صبر کر۔ (براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۱۶۵ حاشیه در حاشیہ نمبر ۴) اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ ہمیشہ اس کا عتاب ان لوگوں پر ہوتا ہے جن پر اس کے فضل اور عطایات بے شمار ہوں اور جنہیں وہ اپنے نشانات دکھا چکا ہوتا ہے۔ وہ ان لوگوں کی طرف کبھی متوجہ نہیں ہوتا کہ انہیں عتاب یا خطاب یا ملامت کرے جن کے خلاف اس کا آخری فیصلہ نافذ ہونا ہوتا ہے چنانچہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلُ لَهُمُ اور فرماتا ہے وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوتِ ( القلم : ۴۹) اور فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَبْتَغِي نَفَقًا فِي الْأَرْضِ الآية (الانعام : ۴۹) یہ حجت آمیز عتاب اس بات پر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت جلد فیصلہ کفار کے حق میں چاہتے تھے ، مگر خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور سنن کے لحاظ سے بڑے توقف اور حلم کے ساتھ کام کرتا ہے، لیکن آخر کار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۔ وسلم کے دشمنوں کو ایسا کچلا اور پیسا کہ اُن کا نام ونشان مٹادیا۔ اسی طرح پر ممکن ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگ طرح طرح کی گالیاں ، افترا پردازیاں اور بد زبانیاں خدا تعالیٰ کے سچے سلسلے کی نسبت سن کر اضطراب اور استعجال میں پڑیں۔ مگر انہیں خدا تعالیٰ کی اس سنت کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برتی گئی ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ اس لیے میں پھر اور بار بار بتا کید حکم کرتا ہوں کہ جنگ وجدال کے مجمعوں ، تحریکوں اور تقریبوں سے کنارہ کشی کرو۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۲ء صفحه ۵) جلد بازی اور تقویٰ کبھی دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔ نبیوں کو اللہ تعالیٰ نے یہی کہا فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُوا