تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 201

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۱ سورة الدخان وَهُوَ كَالْبَدْرِ وَذُلِكَ مَقَامُ الشُّكْرِ وَالْفَخْرِ مانند ہے اور قرآن کریم بدر کی مانند۔ اور یہ مسلمانوں لِلْمُسْلِمِينَ (سر الخلافة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۶۹ حاشیه ) کے لئے شکر اور فخر کا مقام ہے۔ ( ترجمہ از مرتب ) اس روشن اور کھلی کھلی کتاب کی قسم ہے کہ ہم نے اس قرآن کریم کو ایک مبارک رات میں اُتارا ہے کیونکہ ہمیں منظور تھا کہ نافرمانی کے نتائج سے ڈراویں۔ وہ رات ایک ایسی بابرکت رات ہے کہ تمام حکمت کی باتیں اس میں کھولی جاتی ہیں اور ایسا ہی ہم نے چاہا ہے اور تیرے رب نے رحمت کی راہ سے ایسا ہی ارادہ کیا ہے کہ کل معارف و دقائق الہیہ کا تیری بعثت مبارکہ پر ہی خاتمہ ہو اور وہی کلام کل معارف حکمیہ کا جامع ہو جو تجھ پر نازل ہوا ہے ۔۔۔۔۔ اور اس برکت والی رات سے مراد ایک تو وہی معنے ہیں جو مشہور ہیں اور دوسری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت کی رات ہے اور اس کا دامن قیامت کے دن تک پھیلا ہوا ہے اور آیت فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيمٍ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ تمام زمانہ جو قیامت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد رسالت کے تحت میں ہے فیوض قرآن کریم سے بہت فائدہ اُٹھائے گا اور وہ تمام معارف الہیہ جو دنیا میں مخفی چلے آتے تھے اس زمانہ میں وقتا فوقتا ظہور پذیر ہوتے رہیں گے اور نیز آیت فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيمٍ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس زمانہ با برکت کے خواص میں سے یہ بھی ہوگا کہ معاش اور معاد کے کل علوم حکمیہ اپنے اعلیٰ درجہ کے کمالات کے ساتھ ظہور پذیر ہوں گے اور کوئی امر حکمت ایسا نہیں رہے گا جس کی تفصیل نہ کی جائے۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۷۴، ۳۷۵) رَبِّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِنْ كُنْتُمْ مُوقِنِينَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْى وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ ابَابِكُمُ الْأَوَّلِينَ ، بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ يَلْعَبُونَ ) خدا وہ خدا ہے جس نے زمین و آسمان کو بنایا اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب اسی نے پیدا کیا تا تم اُسی صانع حقیقی پر یقین لاؤ اور شک کرنے کی کوئی وجہ نہ رہے۔ کوئی معبود اس کے سوا نہیں ۔ وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ تمہارا رب ہے اور تمہارے ان باپ دادوں کا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ بلکہ وہ تو شکوک و شبہات میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان دلائل کی طرف انہیں کہاں نظر ہے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۷۵)