تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 200

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۰ سورة الدخان سورۃ القدر نازل کر کے یہ ظاہر فرمایا گیا ہے کہ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ خدائے تعالیٰ کا کلام ليلة القدر میں ہی نازل ہوتا ہے اور اس کا نبی لیلتہ القدر میں ہی دنیا میں نزول فرماتا ہے اور لیلۃ القدر میں ہی وہ فرشتے اُترتے ہیں جن کے ذریعہ سے دُنیا میں نیکی کی طرف تحریکیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ ضلالت کی پر ظلمت رات سے شروع کر کے طلوع صبح صداقت تک اسی کام میں لگے رہتے ہیں کہ مستعد دلوں کو سچائی کی طرف (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۵۹، ۱۶۰) کھینچتے رہیں ۔ ۔ ہم نے قرآن کو ایک ایسی بابرکت رات میں اُتارا ہے جس میں ہر ایک امر پر حکمت تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اس سے مطلب یہ ہے کہ جیسے ایک رات بڑی ظلمت کے ساتھ نمودار ہوئی تھی۔ اسی کے مقابل پر اس کتاب میں انوار عظیمہ رکھے گئے ہیں جو ہر ایک قسم کے شک اور شبہ کی ظلمت کو ہٹاتے ہیں اور ہر ایک بات کا فیصلہ کرتے ہیں اور ہر ایک قسم کی حکمت کی تعلیم کرتے ہیں۔ جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۸۷ ) وَ فِي هَذَا إِشَارَةٌ مِنْ رَّبِّ عَلِيْمٍ إِلَى أَنَّ اس میں رب علیم کی طرف سے اس بات کی طرف كُلَّ مَا يُفْرَقُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ مِنْ أَمْرِ ذِی اشارہ ہے کہ لیلتہ القدر میں جو ہرا ہم کام تقسیم کیا جاتا ہے بَالٍ فَهُوَ مَكْتُوبٌ فِي الْقُرْآنِ كِتَابِ اللہ وہ خدائے عزوجل کی عظیم الشان کتاب قرآن مجید میں لکھا ذِي كُلِّ عَظْمَةٍ وَ جَلَالٍ فَإِنَّهُ نَزَلَ فِي لَيْلَةِ ہوا موجود ہے کیونکہ یہ ( قرآن مجید ) مکمل طور پر لیلہ الْقَدْرِ بِنُزُولٍ تَامٍ فَبُوْرِكَ مِنْهُ اللَّيْلُ القدر میں نازل ہوا ہے پس اس کے اُترنے کی وجہ سے بِإِذْنِ رَبِّ عَلَّامٍ فَكُلُّمَا يُوجَدُ مِنَ ربّ علیم کے اذن سے یہ رات بابرکت ہوگئی ۔ پس ہر الْعَجَائِبِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ يُوجَدُ مِنْ عجیب بات جو اس رات میں ظاہر ہوئی ہے وہ دراصل بَرَكَاتِ نُزُولِ هَذِهِ الصُّحُفِ الْمُبَارَكَةِ قرآن کریم کے نزول کی برکت ہے۔ پس قرآن کریم ان فَالْقُرْآنُ أَحَقُّ وَ أَوْلَى بِهَذِهِ الصَّفَاتِ فَإِنَّهُ صفات کا زیادہ حقدار ہے کیونکہ وہ ان برکات کا سر چشمہ مَبْدَأُ أَوَّلٌ لِهَذِهِ الْبَرَكَاتِ وَ مَا بُورِكَتِ ہے اور اس رات کو بھی صرف اس وجہ سے رب کا ئنات اللَّيْلَةُ إِلَّا بِهِ مِنْ رَّبِّ الْكَائِنَاتِ وَلِأَجْلِ نے برکت دی ہے اسی لئے قرآن کریم اپنے آپ کو ان ذَالِكَ يَصِفُ الْقُرْآنُ نَفْسَهُ بِأَوْصَافِ اوصاف سے متصف قرار دیتا ہے جو لیلۃ القدر میں تُوجَدُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ بَلْ اللَّيْلَةُ كَالْهِلَالِ پائے جاتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ رات ہلال کی