تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 160

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٦٠ سورة الشورى ہمیشہ سے اس نے آنا الْمَوْجُود کہا ہے اب بھی کہتا ہے جس طرح حضرت مسیح پر وحی ہوتی تھی اسی طرح اب بھی ہوتی ہے۔ میں سچ کہتا ہوں یہ نرا دعوی نہیں اس کے ساتھ روشن دلائل ہیں کہ پہلے کیا تھا جو اب نہیں ۔ اب بھی وہی خدا ہے جو سدا سے کلام کرتا چلا آیا ہے۔ اس نے اب بھی دُنیا کو اپنے کلام سے منور کیا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۲ ء صفحه ۳) سچی معرفت بغیر مخاطبات الہیہ کے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اگر یہ بات اس امت کو حاصل نہیں تو خیر امت کس طرح سے بن گئی ۔ اللہ تعالیٰ نے مخاطبات کا دروازہ بند نہیں کیا ورنہ نجات کا کوئی ذریعہ باقی نہ رہتا۔ ( بدر جلد ا نمبر ۳۳ مورخه ۶ رنومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۳) یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے الہام ووحی کے دروازہ کو بند نہیں کیا۔ جو لوگ اس امت کو وحی والہام کے انعامات سے بے بہرہ ٹھہراتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں اور قرآن شریف کے اصل مقصد کو انہوں نے سمجھا ہی نہیں ۔ ان کے نزدیک یہ امت وحشیوں کی طرح ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات اور برکات کا معاذ اللہ خاتمہ ہو چکا اور وہ خدا جو ہمیشہ سے متکلم خدا رہا ہے اب اس زمانہ میں آ کر خاموش ہو گیا۔ وہ نہیں جانتے کہ اگر مکالمه مخاطبہ نہیں تو هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کا مطلب ہی کیا ہوا ؟ بغیر مکالمه مخاطبہ کے تو اس کی ہستی پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکتی ۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۶ ء صفحه ۲) سب صوفی اس بات کے بھی قائل ہوتے ہیں کہ وحی کا سلسلہ بند نہیں ہوتا بلکہ ظلی طور پر انسان نبی بن سکتا ہے مگر کمزوری کے ساتھ وحی دل کہہ دیتے ہیں۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۶ ) کبھی نبی کی اس قسم کی وحی جس کو دوسرے لفظوں میں اجتہاد بھی کہتے ہیں مس شیطانی سے مخلوط ہو جاتی ہے اور یہ اُس وقت ہوتا ہے کہ جب نبی کوئی تمنا کرتا ہے کہ یوں ہو جائے تب ایسا ہی خیال اُس کے دل میں گزرتا ہے جس پر نبی مستقل رائے قائم کرنے کے لئے ارادہ کر لیتا ہے تب فی الفور وحی اکبر جو کلام الہی اور وحی متلو اور میمن ہے نبی کو اس غلطی پر متنبہ کر دیتی ہے اور وحی متلو شیطان کے دخل سے بکلی منزہ ہوتی ہے کیونکہ وہ ایک سخت ہیبت اور شوکت اور روشنی اپنے اندر رکھتی ہے اور قول ثقیل اور شدید النزول بھی ہے اور اس کی تیز شعاعیں شیطان کو جلاتی ہیں اس لئے شیطان اس کے نام سے دور بھاگتا ہے اور نزدیک نہیں آ سکتا اور نیز ملائک کی کامل محافظت اس کے ارد گرد ہوتی ہے لیکن وحی غیر متلو جس میں نبی کا اجتہاد بھی داخل ہے یہ قوت نہیں رکھتی ۔ اس لئے تمنا کے وقت جو کبھی شاذ نادر اجتہاد کے سلسلہ میں پیدا ہو جاتی ہے۔ شیطان نبی یا