تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 146
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۶ سورة الشورى میں ترقی کرنی چاہیئے اور مطالعہ کرتے رہو کہ ان باتوں پر کس حد تک قائم ہوا اگر یہ باتیں نہیں ہیں تو پھر خوابات اور الہامات بھی کچھ فائدہ نہیں دیں گے بلکہ صوفیوں نے لکھا ہے کہ اوائل سلوک میں جو رو یا یا وحی ہو اس پر تو جہ نہیں کرنی چاہیئے وہ اکثر اوقات اس راہ میں روک ہو جاتی ہے انسان کی اپنی خوبی اس میں تو کوئی نہیں کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جو وہ کسی کو کوئی اچھی خواب دکھاوے یا کوئی الہام کرے اس نے کیا کیا ؟ البدر جلد ۳ نمبر ۱۸ ، ۱۹ مورخه ۸ تا ۱۶ رمتی ۱۹۰۴ ء صفحه (۱۰) خدائے تعالیٰ نے انسان کو اس کے کمالات مطلوبہ تک پہنچانے کے لئے صرف جو ہر عقل ہی عطا نہیں کیا بلکہ کشف اور الہام پانے کی قوت بھی اُس کی فطرت میں رکھی ہے۔ سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۸۹) اللہ تعالیٰ نے وحی اور الہام کا مادہ ہر شخص میں رکھ دیا ہے کیونکہ اگر یہ مادہ نہ رکھا ہوتا تو پھر محبت پوری نہ ہو سکتی ۔ اس لیے جو نبی آتا ہے اس کی نبوت اور وحی والہام کے سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی فطرت میں ایک ودیعت رکھی ہوئی ہے۔ اور وہ ودیعت خواب ہے۔ اگر کسی کو کوئی خواب سچی کبھی نہ آئی ہو تو وہ کیوں کر مان سکتا ہے کہ الہام اور وحی بھی کوئی چیز ہے۔ اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ( البقرة : ۲۸۷) اس لیے یہ مادہ اس نے سب میں رکھ دیا ہے۔ میرا یہ مذہب ہے کہ ایک بدکار اور فاسق فاجر کو بھی بعض وقت سچی رو یا آ جاتی ہے اور کبھی کبھی کوئی الہام بھی ہو جاتا ہے۔ گو وہ شخص اس کیفیت سے کوئی فائدہ اُٹھا دے یا نہ اُٹھاوے۔ جبکہ کافر اور مومن دونوں کو سچی رویا آجاتی ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں فرق کیا ہے؟ عظیم الشان فرق تو یہ ہے کہ کافر کی رؤیا بہت ہی کم سچی نکلتی ہے اور مومن کی کثرت سے سچی نکلتی ہے۔ گویا پہلا فرق کثرت اور قلت کا ہے۔ دوسرے مومن کے لیے بشارت کا حصہ زیادہ ہے۔ جو کافر کی رویا میں نہیں ہوتا ۔ سوم مومن کی رؤیا مصفا اور روشن ہوتی ہے۔ بحالیکہ کافر کی رؤیا مصفا نہیں ہوتی ۔ چہارم مومن کی رو یا اعلیٰ درجہ کی ہوگی ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۲ء صفحه ۶) وحی کئی قسم کی ہے۔ عادت اللہ ہے کہ جب وہ سماع پر موقوف ہو تو اُسے وحی کہتے ہیں۔ رؤیت کے متعلق ہو تو اس کو کشف کہتے ہیں ایک قوت شامہ سے ہوتی ہے جیسے اِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ کبھی قوت حاسہ سے بھی ہوتی ۔ غرض تمام حواس خمسہ سے وحی ہوتی ہے اور ملہم کو قبل از وقت بذریعہ وحی ان باتوں کی اطلاع دی جاتی ہے۔ مثنوی رومی میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک دفعہ چند قیدی آنحضرت کے پاس پابجولاں آئے ان