تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 145

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الده سورة الشورى طَابَ فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرَّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا کھجوریں ہمارے پاس لائی گئی ہیں۔ میں نے اس کی وَالْعَافِيَّةَ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ تعبیر کی کہ ہمارے لئے دُنیا میں رفعت اور آخرت میں سو دیکھو فَانْظُرْ كَيْفَ رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى عافیت ہے اور ہمارا دین مقبول ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ سود اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَيْفِيَّاتِ الرُّوْحَانِيَّةَ فِي که کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روحانی الصُّورِ الْجِسْمَانِيَّةِ وَلَا يَخْفَى عَلَيْكَ أَنَّ كيفيات جسمانی صورتوں میں دیکھیں اور یہ بات آپ رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحَى فَقَبَتَ مِنْ هُهُنَا أَن مخفی نہیں کہ انبیاء کی خوا میں وحی ہوتی ہیں اور اس سے وَحْيَ الأَنْبِيَاءِ قَدْ يَكُونُ مِنْ نَوْعِ الْمَجَازِ یہ ثابت ہوا کہ انبیاء کی وحی بعض اوقات مجاز اور استعارہ وَالْإِسْتِعَارَةِ، وَقَدْ أَوَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی کی قسم سے ہوتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ الْوَحْيِ۔ نے اس قسم کی وحی کی تاویل کی ہے۔ ( ترجمہ از مرتب ) (حمامة البشرى، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۹۰، ۱۹۱ حاشیہ ) الہام خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔ بندہ کی الہام میں فضیلت نہیں بلکہ اعمال صالحہ میں فضیلت ہے اور اس میں کہ خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے سو نیک کاموں میں کوشش چاہیے تا کہ موجب نجات ہو۔ ( بدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۷ رجون ۱۹۰۶ ء صفحہ (۵) اگر چاہتے ہو کہ اس ( خدا تعالیٰ) کا کلام سنو تو اس کا قرب حاصل کرو۔ مگر یہ یا درکھو کہ اصل مقصود تمہارا یہ نہ ہو ۔ ورنہ میرا اپنا یہی مذہب ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا شرک ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کی رضا جوئی اور اس کی محبت کی غرض اصل تو یہ ہوئی کہ الہام ہوں یا کشوف ہوں اور پھر بار یک طور پر اس کے ساتھ نفسانی غرض یہ ملی ہوئی ہوتی ہے کہ اس سے ہماری شہرت ہو۔ لوگوں میں ہم ممتاز ہوں ۔ ہماری طرف رجوع ہو۔ یہ باتیں صافی تعلقات میں ایک روک ہو جاتی ہیں اور اکثر اوقات شیطان ایسے وقت پر قابو پالیتا ہے۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۲ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۶ء صفحه ۳، ۴) خوب یا د رکھو کہ ان خوابوں اور الہامات پر ہی نہ رہو بلکہ اعمال صالحہ میں لگے رہو بہت سے الہامات اور خواب سنیر و پھل کی طرح ہوتے ہیں جو کچھ دنوں کے بعد گر جاتے ہیں اور پھر کچھ باقی نہیں رہتا ہے۔ اصل مقصد اور غرض اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا اور بے ریا تعلق ، اخلاص اور وفاداری ہے جو نرے خوابوں سے پوری نہیں ہو سکتی مگر اللہ سے کبھی بے خوف نہیں ہونا چاہیے جہاں تک ہو سکے صدق و اخلاص و ترک ریا وترک منہیات