تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 135
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الله سورة الشورى شہادت سے دیکھو اور فراست سے غور کرو۔ اگر عفو سے فائدہ ہو تو معاف کرو لیکن اگر خبیث اور شریر ہے تو پر جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مثلها پر عمل کرو۔ اسی طرح پر اسلام کی دوسری پاک تعلیمات ہیں جو ہر زمانہ میں روز روشن کی طرح ظاہر ہیں۔ الحکم جلد ۴ نمبر ۱۴ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۰ ء صفحه ۶،۵ ) توریت ۔۔۔۔۔۔ ایک بے جا سختی پر زور دے رہی تھی اور انتقامی قوت کو بڑھاتی تھی اور انجیل بالمقابل بے ہودہ عفو پر زور مارتی تھی قرآن شریف نے ان دونوں کو چھوڑ کر حقیقی تعلیم دی جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ یعنی بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے لیکن جو شخص معاف کر دے اور اس معاف کرنے میں اصلاح مقصود ہو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔ الحکم جلدی نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۲) اسلام نے سب سے اول یہ بتایا ہے کہ کوئی قوت اور طاقت جو انسان کو دی گئی ہے فی نفسہ وہ بری نہیں ہے بلکہ اس کی افراط یا تفریط اور برا استعمال اسے اخلاق ذمیمہ کی ذیل میں داخل کرتا ہے اور اس کا برمحل اور اعتدال پر استعمال ہی اخلاق ہے ۔ یہی وہ اصول ہے جو دوسری قوموں نے نہیں سمجھا اور قرآن نے جس کو بیان کیا ہے اب اس اصول کو مد نظر رکھ کر وہ کہتا ہے جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ الآية یعنی بدی کی سزا تو اسی قدر بدی ہے لیکن جس نے عفو کیا اور اس عفو میں اصلاح بھی ہو۔ عفو کو تو ضرور رکھا ہے مگر یہ نہیں کہ اس عفو پر شریر اپنی شرارت میں بڑھے یا تمدن اور سیاست کے اصولوں اور انتظام میں کوئی خلل واقع ہو بلکہ ایسے موقع پر سز ا ضروری ہے۔ عفو اصلاح ہی کی حالت میں روا رکھا گیا ہے ۔ اب بتاؤ کہ کیا یہ تعلیم انسانی اخلاق کی متمم اور مکمل ہو سکتی ہے یا نرے طمانچے کھانے۔ قانون قدرت بھی پکار کر اسی کی تائید کرتا ہے۔ اور عملی طور پر بھی اس کی ہی تائید ہوتی ہے انجیل پر عمل کرنا ہے تو پھر آج ساری عدالتیں بند کر دو اور دو دن کے لیے پولیس اور پہرہ اٹھا دو تو دیکھو کہ انجیل کے ماننے سے کس قدر خون کے دریا بہتے ہیں اور انجیل کی تعلیم اگر ناقص اور ادھوری نہ ہوتی تو سلاطین کو جدید قوانین کیوں بنانے پڑتے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۵ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۲ء صفحہ ۳، ۴) انسان انسان تب ہی بنتا ہے کہ وہ سارے قومی کو استعمال کرے ، مگر انجیل کہتی ہے کہ سارے قوی کو بیکار چھوڑ دو اور ایک ہی قوت پر زور دیئے جاؤ بالمقابل قرآن شریف تمام قوتوں کا مربی ہے اور بر حل ہر قوت کے استعمال کی تعلیم دیتا ہے جیسا کے مسیح کی اس تعلیم کی بجائے قرآن شریف فرماتا ہے جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ