تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 134
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۴ سورة الشورى بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے لیکن جو شخص عفو کرے اور ایسی عفو ہو کہ اس سے کوئی اصلاح مقصود ہو تو وہ خدا سے اپنا اجر پائے گا یعنی بے محل اور بے موقع عفو نہ ہو جس سے کوئی بد نتیجہ نکلے اور کوئی فساد پیدا ہو بلکہ ایسے موقع پر عفو ہو جس سے کسی صلاحیت کی امید ہو اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بنی آدم کی طبیعتیں یکساں واقع نہیں ہوئیں اور گناہ کرنے والوں کی عادتیں اور استعدادیں ایک طور کی نہیں ہوا کرتیں بلکہ بعض تو سزا کے لائق ہوتے ہیں اور بغیر سزا کے اُن کی اصلاح ممکن نہیں اور بعض عفو اور درگزر سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور سزا دینے سے چڑ کر اور بھی بدی میں مستحکم ہو جاتے ہیں۔ مجموعه اشتہارات جلد ا صفحه ۵۶۶) فریق ظالم کو اس بدی کی مانند سزا ہو گی جو اُس نے اپنے فعل سے فریق مظلوم کو پہنچائی۔ مجموعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۲۵۶) جس قسم کی فریق مظلوم کو بدی پہنچائی گئی ہے اسی قسم کی فریق ظالم کو جزا پہنچے گی ۔ مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۲۶۶) جس فریق ظالم کی طرف سے فریق مظلوم کو کوئی بدی پہنچی ہے اُسی قسم کی بدی فریق ظالم کو پہنچے گی ۔ - مجموعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۲۷۵) بدی کی سزا ذلت ہے مگر اس ذلت کی مانند اور مشابہہ جو فریق ظالم نے فریق مظلوم کو پہنچائی ہو۔ جس قسم کی ذلت ان لوگوں نے پہنچائی اُسی قسم کی ذلت ان کو پہنچے گی ۔ مجموعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۲۸۵) مجموعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۳۵۳) بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی عفو کرے ، مگر وہ عفو بے محل نہ ہو، بلکہ اس عفو سے اصلاح مقصود ہو، تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ مثلاً اگر چور کو چھوڑ دیا جاوے تو وہ دلیر ہو کر ڈاکہ زنی کرے گا۔ اس کو سزا ہی دینی چاہیے۔ لیکن اگر دونو کر ہوں اور ایک ان میں سے ایسا ہو کہ ذراسی چشم نمائی ہی اس کو شرمندہ کر دیتی اور اس کی اصلاح کا موجب ہوتی ہے تو اس کو سخت سزا مناسب نہیں ، مگر دوسرا عمداً شرارت کرتا ہے، اس کو عفو کریں تو بگڑتا ہے، اس کو سزا ہی دی جاوے۔ تو بتاو مناسب حکم وہ ہے جو قرآن مجید نے دیا ہے یا وہ جو انجیل پیش کرتی ہے؟ قانون قدرت کیا چاہتا ہے؟ وہ تقسیم اور رؤیت محل چاہتا ہے۔ یہ تعلیم کہ عفو سے اصلاح مد نظر ہو، ایسی تعلیم ہے جس کی نظیر نہیں اور اسی پر آخر متمدن انسان کو چلنا پڑتا ہے اور یہی تعلیم ہے جس پر عمل تعلیم کرنے سے انسان میں قوت اجتہاد اور تدبر اور فراست بڑھتی ہے ۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ ہر طرح کی