تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 394
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۴ سورة الاحزاب آوے گا اور یہ کہ کوئی ایسا نبی آپ کے بعد نہیں آسکتا جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو۔ رئيس المتصوفين حضرت ابن عربی کہتے ہیں کہ نبوت کا بند ہو جانا اور اسلام کا مرجانا ایک ہی بات ہے۔ دیکھو حضرت موسی کے زمانہ میں تو عورتوں کو بھی الہام ہوتا تھا چنانچہ خود حضرت موسی کی ماں سے بھی خدا نے کلام کیا ہے۔ وہ دین ہی کیا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ اس کے برکات اور فیوض آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئے ہیں ۔ اگر اب بھی خدا اسی طرح سنتا ہے جس طرح پہلے زمانہ میں سنتا تھا اور اسی طرح سے دیکھتا ہے جس طرح پہلے دیکھتا تھا تو کیا وجہ ہے کہ جب پہلے زمانہ میں سننے اور دیکھنے کی طرح صفت تکلم بھی موجود تھی تو اب کیوں مفقود ہو گئی ۔ اگر ایسا ہی ہے تو کیا اندیشہ نہیں کہ کسی وقت خدا کی صفت سننے اور دیکھنے کی بھی معزول ہو جاوے ۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۴) میرا دعویٰ صرف یہ ہے کہ موجودہ مفاسد کے باعث خدا نے مجھے بھیجا ہے اور میں اس امر کا اخفاء نہیں کر سکتا کہ مجھے مکالمہ مخاطبہ کا شرف عطا کیا گیا ہے اور خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور کثرت سے ہوتا ہے۔ اسی کا نام نبوت ہے مگر حقیقی نبوت نہیں۔ نباء ایک عربی لفظ ہے جس کے معنے ہیں خبر کے ۔ اب جو شخص کوئی خبر خدا سے پا کر خلق پر ظاہر کرے گا اس کو عربی میں نبی کہیں گے۔ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ ہو کر کوئی دعویٰ نہیں کرتا یہ تو نزاع لفظی ہے۔ کثرت مکالمہ مخاطبہ کو دوسرے الفاظ میں نبوت کہا جاتا ہے۔ دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ قول کہ قُولُوا أَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّنَ وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدَہ اس امر کی صراحت کرتا ہے۔ نبوت اگر اسلام میں موقوف ہو چکی ہے ۔ تو یقیناً جانو کہ اسلام بھی مر گیا الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ء صفحه ۱۲) اور پھر کوئی امتیازی نشان بھی نہیں ہے۔ هُوَ الَّذِي يُصَلَّى عَلَيْكُمْ وَ مَلَيكَتُهُ لِيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا الدلد خدا اور اس کے فرشتے مومنوں پر درود بھیجتے ہیں تا خدا ان کو ظلمت سے نور کی طرف نکالے۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۶۹) وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا یعنی خدا کی رحیمیت صرف ایمانداروں سے خاص ہے جس سے کافر کو یعنی بے ایمان اور سرکش کو حصہ نہیں۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۵۱ حاشیه )