تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 393
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۳ سورة الاحزاب جو یہ پیش کرتے ہیں تسلیم کر لئے جاویں تو پھر گویا آپ کو نعوذ باللہ ابتر مانا ہوگا کیونکہ جسمانی اولاد کی نفی تو قرآن شریف کرتا ہے اور روحانی کی یہ نفی کرتے ہیں تو پھر باقی کیا رہا ؟ اصل بات یہ ہے کہ اس آیت سے اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم الشان کمال اور آپ کی قوت قدسیہ کا زبردست اثر بیان کرتا ہے کہ آپ کی روحانی اولاد اور روحانی تاثیرات کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ آئندہ اگر کوئی فیض اور برکت کسی کو مل سکتی ہے تو اسی وقت اور حالت میں مل سکتی ہے جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اتباع میں کھویا جاوے اور فنافی الرسول کا درجہ حاصل کرلے بدوں اس کے نہیں ۔ اور اگر اس کے سوا کوئی شخص ادعائے نبوت کرے تو وہ کذاب ہوگا۔ اس لئے نبوت مستقلہ کا دروازہ بند ہو گیا اور کوئی ایسا نبی جو بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور ورزش شریعت اور فنا فی الرسول ہونے کے مستقل - نبی صاحب شریعت ہو، نہیں آسکتا ۔ ہاں فنافی الرسول اور آپ کے امتی اور کامل متبعین کے لئے یہ دروازہ بند نہیں کیا گیا اس لئے براہین میں یہ الہام درج ہے كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ یعنی یہ مخاطبات اور مکالمات کا شرف جو مجھے دیا گیا ہے یہ محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا طفیل ہے اور اسی لئے یہ آپ ہی سے ظہور میں آرہے ہیں ۔جس قدر تاثیرات اور برکات وانوار ہیں وہ آپ ہی کے ہیں ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحه ۶) کہتے ہیں کہ دعوی نبوت ہے میں کہتا ہوں یہ تو نری لفظی نزاع ہے۔ نبی تو خبر دینے والے کو کہتے ہیں ۔ اب جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے مخاطبات اور مکالمات ہوتے ہوں اس کا کیا نام رکھا جاوے گا اور یہ نبوت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی طفیل اور اتباع کا نتیجہ ہے میں اس کو کفر اور لعنت سمجھتا ہوں اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے استفاضہ کئے بغیر کوئی شخص نبوت کے چشمہ سے حصہ لیتا ہے اور مستقل نبوت کا مدعی ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۹ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۳) یہ ایک مسلم بات ہے کہ کسی چیز کا خاتمہ اس کی علت غائی کے اختتام پر ہوتا ہے۔ جیسے کتاب کے جب کل مطالب بیان ہو جاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے اسی طرح پر رسالت اور نبوت کی علت غائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوئی اور یہی ختم نبوت کے معنے ہیں کیونکہ یہ ایک سلسلہ ہے جو چلا آیا ہے اور کامل انسان پر آکر اس کا خاتمہ ہو گیا۔ ٹریکٹ نمبر ا حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدۃ الوجود پر ایک خط صفحہ ۱۷، ۱۸) ( خاتم النبین ۔ ناقل ) کے یہ معنے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی صاحب شریعت نہیں