تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 357
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۷ سورة الاحزاب فَقَدْ كَفَرَ ۔ اس میں اصل بھید یہی ہے کہ خاتم النبیین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ مغایرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کوتوڑنے والا ہوگا جو خاتم النبین پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اُسی خاتم النبین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر ۔ پس با وجود اس شخص کے دعوی نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا پھر بھی سیدنا محمد خاتم النبیین ہی رہا کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اس کا نام ہے مگر عیسی بغیر مہر توڑنے کے آ نہیں سکتا ۔ ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۰۷ تا ۲۰۹) نبوت کے معنے اظہا ر امر غیب ہے اور نبی ایک لفظ ہے جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے یعنی عبرانی میں اسی لفظ کو نابی کہتے ہیں اور یہ لفظ نابا سے مشتق ہے جس کے یہ معنے ہیں خدا سے خبر پا کر پیشگوئی کرنا اور نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے یہ صرت موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں ۔ ایک غلطی کا ازالہ ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۱۰،۲۰۹) ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔ اور میرا یہ قول کہ ”من نیستم رسول و نیاورده ام کتاب اس کے معنے صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں ۔ ہاں یہ بات بھی یاد یا د رکھنی چاہیے اور ہر گز فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بلا واسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسٹمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی ۔ اور اس طور سے خاتم النبین کی مہر محفوظ رہی کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔ اگر کوئی شخص اس وحی الہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور