تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 356
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۶ سورة الاحزاب سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ وَ لكِن رَّسُولَ اللهِ وَ خَاتَمَ النبین اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑ کی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی ۔ پس جو شخص اس کھڑ کی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے ۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اس کے جلال کے لئے ۔ اس لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔ پس یہ آیت کہ ما كان مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ اس کے معنے یہ ہیں کہ لَيْسَ مُحَمَّدٌ اَبَاً أَحَدٍ مِنْ رِجَالِ الدُّنْيَا وَلكِنْ هُوَ ابْ لِرِجَالِ الْآخِرَةِ لِأَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا سَبِيلَ إِلَى فَيُوضِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ تَوَسُطِهِ غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کے رو سے اور یہ نام بحیثیت فنافی الرسول مجھے ملا لہذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا لیکن عیسی کے اُترنے سے ضرور فرق آئے گا۔ اور یہ بھی یادر ہے کہ نبی کے معنے لغت کے رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا ۔ پس جہاں یہ معنے صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا۔ اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غیب مصفی کی خبر اس کول نہیں سکتی اور یہ آیت روکتی ہے لا يُظهر عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ ( الجن : (۲۸) ۔ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان معنوں کے رو سے نبی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ اُمت مکالمات و مخاطبات الہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرورت اس پر مطابق آيت لا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبة (الجن : ۲۷) کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا ۔ اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے گا اسی کو ہم رسول کہیں گے ۔ فرق درمیان یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک ایسا نبی کوئی نہیں جس پر جدید شریعت نازل ہو یا جس کو بغیر توسط آنجناب اور ایسی فنافی الرسول کی حالت کے جو آسمان پر اس کا نام محمد اور احمد رکھا جائے یونہی نبوت کا لقب عنایت کیا جائے وَمَنِ ادعی