تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 341

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۱ سورة الاحزاب کرنے میں اختیار ہو اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ حق سے بہت دور جا پڑا ہے یعنی نجات سے بے نصیب رہا کیونکہ نجات اہلِ حق کے لئے ہے۔ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۲۹) وَ إِذْ تَقُولُ لِلَّذِى اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَ انْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشُهُ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ في ازْوَاجِ اَدْعِيَا بِهِمْ إِذَا قَضَوا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا جو لوگ متبنی کرتے ہیں ان کا یہ دعوئی سراسر لغو اور باطل ہے کہ وہ حقیقت میں بیٹا ہو جاتا ہے اور بیٹوں کے تمام احکام اس کے متعلق ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ قانونِ قدرت اس بیہودہ دعوے کو رد کرتا ہے اس لئے کہ جس کا نطفہ ہوتا ہے اسی کے اعضاء میں سے بچہ کے اعضاء حصہ لیتے ہیں اسی کے قومی کے مشابہ اس کے قومی ہوتے ہیں اور اگر وہ انگریزوں کی طرح سفید رنگ رکھتا ہے تو یہ بھی اس سفیدی سے حصہ لیتا ہے اگر وہ حبشی ہے تو اس کو بھی اس سیاہی کا بخرہ ملتا ہے اگر وہ آتشک زدہ ہے تو یہ بیچارہ بھی اسی بلا میں پھنس جاتا ہے۔ غرض جس کا حقیقت میں نطفہ ہے اسی کے آثار بچہ میں ظاہر ہوتے ہیں جیسے گیہوں سے گیہوں پیدا ہوتی ہے اور چنے سے چنا نکلتا ہے۔ پس اس صورت میں ایک کے نطفہ کو اس کے غیر کا بیٹا قرار دینا واقعات صحیحہ کے مخالف ہے۔ ظاہر ہے کہ صرف منہ کے دعوے سے واقعات حقیقیہ بدل نہیں سکتے ۔ مثلاً اگر کوئی کہے کہ میں ۔ نے سم الفار کے ایک ٹکڑہ کو طبا شیر کا ٹکڑہ سمجھ لیا تو وہ اس کے کہنے سے طبا شیر نہیں ہو جائے گا اور اگر وہ اس وہم کی بناء پر اسے کھائے گا تو ضرور مرے گا۔ جس حالت میں خدا نے زید کو بکر کے نطفہ سے پیدا کر کے بکر کا بیٹا بنا دیا تو پھر کسی انسان کی فضول گوئی سے وہ خالد کا بیٹا نہیں بن سکتا ۔ اور اگر بکر اور خالد ایک مکان میں اکٹھے بیٹھے ہوں اور اس وقت حکم حاکم پہنچے کہ زید جس کا حقیقت میں بیٹا ہے اس کو پھانسی دیا جائے تو اس وقت خالد فی الفور عذر کر دے گا کہ زید حقیقت میں بکر کا بیٹا ہے میرا اس سے کچھ تعلق نہیں ۔ یہ ظاہر ہے کہ کسی شخص کے دو باپ تو نہیں ہو سکتے پس اگر مستثنی بنانے والا حقیقت میں باپ ہو گیا ہے تو یہ فیصلہ ہونا چاہیے کہ اصلی باپ کس دلیل سے لا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ۔