تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 316

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۶ سورة لقمان شرک ہے کہ اسباب کی پرستش کی جاوے اور معبودات دنیا پر زور دیا جاوے اسی کا نام ہی شرک ہے۔ اور معاصی کی مثال تو حقہ کی سی ہے کہ اس کے چھوڑ دینے سے کوئی دقت و مشکل کی بات نظر نہیں آتی مگر شرک کی مثال افیم کی سی ہے کہ وہ عادت ہو جاتی ہے جس کا چھوڑ نا محال ہے۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۴ مورخه ۳۰ جون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱) یا درکھو شرک کی کئی قسمیں ہوتی ہیں ان میں سے ایک شرک جلی کہلاتا ہے دوسرا شرک خفی ۔ شرک جلی کی مثال تو عام طور پر یہی ہے جیسے یہ بت پرست لوگ بتوں ، درختوں یا اور اشیاء کو معبود سمجھتے ہیں اور شرک خفی یہ ہے کہ انسان کسی شے کی تعظیم اسی طرح کرے جس طرح اللہ تعالیٰ کی کرتا ہے یا کرنی چاہیے یا کسی شے سے اللہ تعالیٰ کی طرح محبت کرے یا اس سے خوف کرے یا اس پر توکل کرے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۷ ) وَ إِنْ جَاهَدُكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبُهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ آنَابَ إِلَى ثُمَّ إِلَى مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ) اگر تجھے اس بات کی طرف بہکاویں کہ تو میرے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہر اوے تو ان کا کہا مت مان ۔ براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۲۱ حاشیه در حاشیه نمبر (۳) وَلَا تُصَعِرُ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ (۱۹) اسلام ایک وسیع مذہب ہے اس میں اسلام کا مدار نیات پر رکھتا ہے۔ بدر کی لڑائی میں ایک شخص میدانِ جنگ میں نکلا جو اترا کر چلتا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو یہ چال بہت بری ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے لا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا مگر اس وقت یہ چال خدا تعالیٰ کو بہت ہی پسند ہے کیونکہ یہ اس کی راہ میں اپنی جان تک شار کرتا ہے اور اس کی نیت اعلیٰ درجہ کی ہے۔ غرض اگر نیت کا لحاظ نہ رکھا جائے تو بہت مشکل پڑتی ہے۔ اسی طرح پر ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم