تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 248

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۸ سورة العنكبوت دروازہ اُس پر کھولتا ہے اور الہام اور کشوف کے ذریعہ سے اور دوسرے آسمانی نشانوں کے وسیلہ سے یقین کامل تک اُس کو پہنچاتا ہے۔ ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۶۱) کا امتحان نہ کیا جائے ۔ کیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں اسی قدر پر راضی ہو جاؤں کہ وہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے اور ابھی ان الوصیت ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۲۷) کتاب بحر الجواہر میں لکھا ہے کہ ابوالخیر نام ایک یہودی تھا جو پارسا طبع اور راستباز آدمی تھا۔ اور خدا تعالیٰ کو واحد لاشریک جانتا تھا۔ ایک دفعہ وہ بازار میں چلا جاتا تھا تو ایک مسجد سے اُس کو آواز آئی کہ ایک لڑکا قرآن - شریف کی یہ آیت پڑھ رہا تھا الم - أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ - یعنی کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ یونہی وہ نجات پا جاویں گے صرف اس کلمہ سے کہ ہم ایمان لائے۔ اور ابھی خدا کی راہ میں اُن کا امتحان نہیں کیا گیا کہ کیا ان میں ایمان لانے والوں کی سی استقامت اور صدق اور وفا بھی موجود ہے یا نہیں؟ اس آیت نے ابوالخیر کے دل پر بڑا اثر کیا اور اُس کے دل کو گداز کر دیا۔ تب وہ مسجد کی دیوار کے ساتھ کھڑا ہو کر زار زار رویا ۔ رات کو حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی خواب میں آئے اور فرمایا یا اَبَا الْخَيْرِ أَعْجَبَنِي أَنَّ مِثْلَكَ مَعَ كَمَالِ فَضْلِكَ يُنْكِرُ بِنُبُوَّتِي ۔ یعنی اے ابو الخير مجھے تعجب آیا کہ تیرے جیسا انسان باوجود اپنے کمال فضل اور بزرگی کے میری نبوت سے انکار کرے۔ پس صبح ہوتے ہی ابوالخیر مسلمان ہو گیا اور اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔ خلاصہ یہ کہ میں اس بات کو بالکل سمجھ نہیں سکتا کہ ایک شخص خدا تعالیٰ پر ایمان لاوے اور اُس کو واحد لاشریک سمجھے اور خدا اُس کو دوزخ سے تو نجات دے مگر نا بینائی سے نجات نہ دے حالانکہ نجات کی جڑھ معرفت ہے۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۱،۱۵۰) مومن کو چاہئے کہ دوسرے کے حالات سے عبرت پکڑے کیا تم تعجب کرتے ہو کہ جس امتحان میں خدا تعالیٰ نے یہودیوں کو ڈالا تھا وہی امتحان تمہارا بھی کیا گیا ہو۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ - (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۰۱) یہ یہ غلطی ہے جو کہا جاتا ہے کہ کسی ولی کے پاس جا کر صد باولی فی الفور بن گئے ۔ اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے کہ أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ جب تک انسان آزمایا نہ جاوے فتن میں نہ ڈالا جاوے وہ کب ولی بن سکتا ہے ۔۔۔۔ اہل اللہ مصائب شدائد کے بعد درجات پاتے ہیں لوگوں کا یہ خیال