تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 247
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۷ سورة العنكبوت اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة العنكبوت بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ المنْ أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ) کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بے امتحان کئے صرف زبانی ایمان کے دعوئی سے چھوٹ جاویں گے۔ براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۰۸ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) جو شخص ایمان لاتا ہے اُسی کو عرفان دیا جاتا ہے۔ ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اُس حالت میں مان لینا کہ جبکہ ابھی علم کمال تک نہیں پہنچا اور شکوک و شبہات سے ہنوز لڑائی ہے ۔ پس جو شخص ایمان لاتا ہے یعنی با وجود کمزوری اور نہ مہیا ہو نے کل اسباب یقین کے اس بات کو اغلب احتمال کی وجہ سے قبول کر لیتا ہے وہ حضرت احدیت میں صادق اور راستباز شمار کیا جاتا ہے اور پھر اس کو موہبت کے طور پر معرفتِ تامہ حاصل ہوتی ہے اور ایمان کے بعد عرفان کا جام اس کو پلایا جاتا ہے۔ اسی لئے ایک مرد متقی رسولوں اور نبیوں اور مامورین من اللہ کی دعوت کو سن کر ہر ایک پہلو پر ابتداء امر میں ہی حملہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ حصہ جو کسی مامور من اللہ کے منجانب اللہ ہونے پر بعض صاف اور کھلے کھلے دلائل سے سمجھ آ جاتا ہے اُسی کو اپنے اقرار اور ایمان کا ذریعہ ٹھہرا لیتا ہے اور وہ حصہ جو سمجھ نہیں آتا اُس میں سنتِ صالحین کے طور پر استعارات اور مجازات قرار دیتا ہے۔ اور اس طرح تناقض کو درمیان سے اُٹھا کر صفائی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آتا ہے تب خدا تعالیٰ اُس کی حالت پر رحم کر کے اور اس کے ایمان پر راضی ہو کر اور اُس کی دعاؤں کو سُن کر معرفتِ تامہ کا