تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 244

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۴ سورة القصص مِنَ السَّمَاءِ لِيَكُونَا كَالْجِدَارَيْنِ لِحِمَايَةِ حمایت کے لئے دو دیواروں کی طرح ہو جائیں۔ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ( ترجمه از مرتب) اعجاز المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۹۷، ۱۹۸) إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ تَرَادُّكَ إِلى مَعَادٍ قُلْ رَّبِّي أَعْلَمُ مَنْ جَاءَ بِالْهُدَى وَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ ۔ لَرَادُّكَ إِلى مَعَادٍ مجھے اسی جگہ پھیر لائے گا جہاں سے تو نکالا گیا ہے یعنی مکہ میں جس سے کفار نے آنحضرت کو نکال دیا تھا۔ ( براہین احمد یہ چہار تخصص، روحانی جلد ا صفحه ۲۵۸ حاشیہ ) وَلَا تَدْعُ مَعَ اللهِ إِلهَا أَخَرَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكُ إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ تو بجز خدا کے کسی اور سے مرادیں مت مانگ ۔ سب ہلاک ہو جائیں گے۔ ایک اسی کی ذات باقی رہ جاوے گی ۔ اسی کے ہاتھ میں حکم ہے اور وہی تمہارا مرجع ہے۔ ( براہین احمد یہ چہار تخصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۱ حاشیه در حاشیه ) دوسرا حصہ اس توحید کا یہ ہے کہ جیسا کہ کوئی چیز بجز خدا کے خود بخود موجود نہیں ایسا ہی ہر ایک چیز بجز خدا کے اپنی ذات میں فانی اور ہالک ہونے سے بری نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے محل شَيْءٍ هَالِكُ إِلَّا وَجْهَهُ یعنی ہر ایک چیز معرض ہلاکت میں ہے اور مرنے والی ہے بجز خدا کی ذات کے کہ وہ موت سے پاک ہے اور اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ (الرحمن : ۲۷) یعنی ہر ایک جو زمین پر ہے آخر مرے گا پس جیسا کہ خدا نے اس آیت میں کہ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ہے لفظ كُلّ کے ساتھ جو احاطہ تامہ کے لئے آتا ہے ہر ایک چیز کو جو اس کے سوا ہے مخلوق میں داخل کر دیا۔ ایسا ہی اس لفظ گل کے ساتھ اس آیت میں جو كُلُّ شَيْءٍ هَالِكُ إِلَّا وَجْهَهُ ہے اور نیز اس آیت میں کہ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان ہے ہر ایک چیز کے لئے بجز اپنی ذات کے موت ضروری ٹھہرا دی۔ پس جیسا کہ جسمی ترکیب میں انحلال ہو کر جسم پر موت آتی ہے ایسا ہی روحانی صفات میں تغیرات پیدا ہو کر روح پر موت آجاتی ہے مگر جو لوگ وجہ اللہ میں