تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 243
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۳ سورة القصص - الْمَسِيحَ الْمَوْعُودَ لِيُشِيرَ إِلَى مَا تَعَمَّدَ اسی طرح مسیح موعود کا بھی یہی نام رکھا تا اس نے جو قصد کیا تھا وَإِنَّ اللهَ كَتَبَ الْحَمْدَ عَلَى رَأْمِیں اس کی طرف اشارہ فرمائے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ کے الْفَاتِحَةِ ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْحَمْدِ فِي آخِرِ ابتداء میں الحمد لکھا ہے پھر اس سورت کے آخر میں بھی الحمد کی هذِهِ السُّورَةِ فَإِنَّ آخِرَهَا لَفظ طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ اس کے آخر میں الضالین کا لفظ الضَّالِّينَ وَهُمُ النَّصَارَى الَّذِينَ ہے اور وہ نصاری ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کی حمد کرنے سے أَعْرَضُوا عَنْ حَمْدِ اللهِ وَأَعْطُوا حَقَّهُ منہ موڑ لیا اور اس کا حق مخلوق کے ایک فرد کو دے دیا کیونکہ لِأَحَدٍ مِّنَ الْمَخْلُوقِيْنَ فَإِنَّ حَقِيقَةً گمراہی کی حقیقت یہ ہے کہ اس قابلِ تعریف ہستی کو جو حمد الضَّلَالَةِ هِيَ تَرْكُ الْمَحْمُودِ الَّذِي وثناء کی مستحق ہے چھوڑ دیا جائے جیسا کہ نصاری نے کیا ہے۔ يَسْتَحِقُّ الْحَمْدَ وَالثَّنَاءِ كَمَا فَعَلَ انہوں نے اپنے پاس سے ایک اور قابلِ تعریف معبود بنا لیا النَّصَارَى وَنَحْتُوا مِنْ عِنْدِهِمْ مَحْمُودًا ہے اور انہوں نے اس کی تعریف میں بڑا مبالغہ کیا ہے ۔ اخَرَ وَبَالَغُوا فِي الْإِطْرَاء وَاتَّبَعُوا انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی اور زندگی کے چشمہ الْأَهْوَاء وَبَعَدُوا مِنْ عَيْنِ الْحَيَاةِ سے دور نکل گئے اور اس طرح ہلاک ہو گئے جس طرح ایک وَهَلَكُوا كَمَا يَهْلَك الضَّال في راه گم کردہ شخص بیابان میں ہلاک ہو جاتا ہے اور یہود تو اپنی الْمَوْمَاةِ وَإِنَّ الْيَهُودَ هَلَكُوا فِي أَوَّلِ ابتدا میں ہی ہلاک ہو گئے تھے اور خدائے قہار کے غضب أَمْرِهِمْ وَبَاءُ وُا بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ الْقَهَّارِ کے مورد بن گئے تھے۔ نصاری چند قدم چلے پھر گمراہ ہو گئے وَالنَّصَارَى سَلَكُوا قَلِيلًا ثُمَّ ضَلُّوا اور روحانی پانی کھو دیا اور آخر کار لا چار ہو کر بیابانوں میں ہی وَفَقَدُوا الْمَاء فَمَاتُوا فِي فَلَاةٍ من مر گئے ۔ پس خلاصہ بیان یہ ہے اللہ تعالیٰ نے دو احمد پیدا الْإِضْطِرَارِ فَحَاصِل هَذَا الْبَيَانِ أَنَّ کئے ایک اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اور ایک آخری زمانہ اللهَ خَلَقَ أَحْمَدَيْنِ فِي صَدْرِ الْإِسْلَامِ میں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہلِ عرفان کے لئے سورۃ فاتحہ کے وَفِي آخِرِ الزَّمَانِ وَأَشَارَ إِلَيْهِمَا شروع میں اور اس کے آخر میں الحمد کا لفظاً ومعنا تکرار کر کے بِتَكْرَارِ لَفْظِ الْحَمْدِ فِي أَوَّلِ الْفَاتِحَةِ وَفِي ان دونوں (احمدوں ) کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور خدا نے اخِرِهَا لِأَهْلِ الْعِرْفَانِ وَفَعَلَ كَذَالِكَ ایسا عیسائیوں کی تردید کے لئے کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے دو لِيَرُدَّ عَلَى النَّصْرَانِيِّينَ وَأَنْزَلَ أَحْمَدَيْنِ احمد آسمان سے اتارے تا وہ دونوں پہلوں اور پچھلوں کی