تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 230

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۰ سورة النمل نشانوں کو جھٹلاتے تھے اور اُن کو ہم جدا جدا جماعتیں بناویں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ عدالت میں حاضر کئے جائیں گے تو خدائے عز وجل اُن کو کہے گا کہ کیا تم نے میرے نشانوں کی بغیر تحقیق کے تکذیب کی یہ تم نے کیا کیا اور ان پر بوجہ ان کے ظالم ہونے کے حجت پوری ہو جائے گی اور وہ بول نہ سکیں گے۔ سورۃ النمل الجزء نمبر ۲۰۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہی دابتہ الارض جو ان آیات میں مذکور ہے جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتدا سے مقرر ہے۔ یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور ہے جو مجھے عالم کشف میں نظر آیا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کا نام دابتہ الارض رکھا کیونکہ زمین کے کیڑوں میں سے ہی یہ بیماری پیدا ہوتی ہے اسی لئے پہلے چوہوں پر اس کا اثر ہوتا ہے اور مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے اور جیسا کہ انسان کو ایسا ہی ہر ایک جانور کو یہ بیماری ہو سکتی ہے اسی لئے کشفی عالم میں اس کی مختلف شکلیں نظر آئیں ۔ اور اس بیان پر کہ دابتہ الارض در حقیقت مادہ طاعون کا نام ہے جس سے طاعون پیدا ہوتی ہے مفصلہ ذیل قرائن اور دلائل ہیں۔ (۱) اوّل یہ کہ دابۃ الارض کے ساتھ عذاب کا ذکر کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ إِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةٌ مِنَ الْأَرْضِ یعنی جب اُن پر آسمانی نشانوں اور عقلی دلائل کے ساتھ حجت پوری ہو جائے گی تب دابتہ الارض زمین میں سے نکالا جائے گا۔ اب ظاہر ہے کہ دابتہ الارض عذاب کے موقعہ پر زمین سے نکالا جائے گا نہ یہ کہ یوں ہی بیہودہ طور پر ظاہر ہو گا جس کا نہ کچھ نفع نہ نقصان ۔ اور اگر کہو کہ طاعون تو ایک مرض ہے مگر دابتہ الارض لغوی معنوں کے رُو سے ایک کیڑا ہونا چاہئیے جو زمین میں سے نکلے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حال کی تحقیقات سے یہی ثابت ہوا ہے کہ طاعون کو پیدا کرنے والا وہی ایک کیڑا ہے جو زمین میں سے نکلتا ہے بلکہ ٹیکا لگانے کے لئے وہی کیڑے جمع کئے جاتے ہیں اور اُن کا عرق نکالا جاتا ہے اور خورد بین سے ثابت ہوتا ہے کہ اُن کی شکل یوں ہے (۰۰) یعنی بہ شکل دو نقطہ ۔ گویا آسمان پر بھی نشان کسوف خسوف دو کے رنگ میں ظاہر ہوا اور ایسا ہی زمین میں ۔ (۲) دوسرا قرینہ یہ ہے کہ قرآن شریف کے بعض مقامات بعض کی تفسیر ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف میں جہاں کہیں یہ مرکب لفظ آیا ہے ۔ اس سے مراد کیڑا لیا گیا ہے مثلاً یہ آیت فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ (سبا : ۱۵) یعنی ہم نے سلیمان پر جب موت کا حکم جاری کیا تو جنات کو کسی نے اُن کے مرنے کا پتہ نہ دیا مگر گھن کے کیڑے نے کہ جو سلیمان کے عصا