تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 229

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۹ سورة النمل رو یا لکھتا ہوں جو طاعون کی نسبت مجھے ہوئی اور وہ یہ کہ میں نے ایک جانور دیکھا جس کا قد ہاتھی کے قد کے برابر تھا مگر منہ آدمی کے منہ سے ملتا تھا اور بعض اعضاء دوسرے جانوروں سے مشابہ تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ یوں ہی قدرت کے ہاتھ سے پیدا ہو گیا اور میں ایک ایسی جگہ پر بیٹھا ہوں جہاں چاروں طرف بن ہیں جن میں بیل ، گدھے، گھوڑے، کتے ، سور، بھیڑیے، اونٹ وغیرہ ہر ایک قسم کے موجود ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ سب انسان ہیں جو بد عملوں سے ان صورتوں میں ہیں۔ اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ ہاتھی کی ضخامت کا جانور جو مختلف شکلوں کا مجموعہ ہے جو محض قدرت سے زمین میں سے پیدا ہو گیا ہے وہ میرے پاس آ بیٹھا ہے اور قطب کی طرف اُس کا منہ ہے خاموش صورت ہے آنکھوں میں بہت حیا ہے اور بار بار چند منٹ کے بعد اُن بنوں میں سے کسی بن کی طرف دوڑتا ہے اور جب بن میں داخل ہوتا ہے تو اُس کے داخل ہونے کے ساتھ ہی شور قیامت اُٹھتا ہے اور ان جانوروں کو کھانا شروع کرتا ہے اور ہڈیوں کے چاہنے کی آواز آتی ہے۔ تب وہ فراغت کر کے پھر میرے پاس آ بیٹھتا ہے اور شاید دس منٹ کے قریب بیٹھا رہتا ہے ور پھر دوسرے بن کی طرف جاتا ہے اور وہی صورت پیش آتی ہے جو پہلے آئی تھی اور پھر میرے پاس آ بیٹھتا ہے۔ آنکھیں اُس کی بہت لمبی ہیں اور میں اس کو ہر ایک دفعہ جو میرے پاس آتا ہے خوب نظر لگا کر دیکھتا ہوں اور وہ اپنے چہرہ کے اندازہ سے مجھے یہ بتلاتا ہے کہ میرا اس میں کیا قصور ہے میں مامور ہوں اور نہایت شریف اور پرہیز گار جانور معلوم ہوتا ہے اور کچھ اپنی طرف سے نہیں کرتا بلکہ وہی کرتا ہے جو اس کو حکم ہوتا ہے۔ تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی طاعون ہے اور یہی وہ دابتہ الارض ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں ہم اس کو نکالیں گے اور وہ لوگوں کو اس لئے کاٹے گا کہ وہ ہمارے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ إِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمُ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِايْتِنَا لَا يُوقِنُونَ ۔ اور جب مسیح موعود کے بھیجنے سے خدا کی حجت اُن پر پوری ہو جائے گی تو ہم زمین میں سے ایک جانور نکال کر کھڑا کریں گے وہ لوگوں کو کاٹے گا اور زخمی کرے گا اس لئے کہ لوگ خدا کے نشانوں پر ایمان نہیں لائے تھے۔ دیکھو سورۃ النمل الجز و نمبر ۲۰۔ اور پھر آگے فرمایا ہے وَ يَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِمَّنْ يُكَذِّبُ بِأَيْتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ - حَتَّى إِذَا جَاءُ وَ قَالَ أَكَذَّبْتُمْ بِايَتِي وَلَمْ تُحِيطُوا بِهَا عِلْمًا أَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ - وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمُ بِمَا ظَلَمُوا فَهُمْ لَا يَنْطِقُونَ ۔ ترجمہ۔ اُس دن ہم ہر ایک اُمت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہمارے