تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 227

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۷ سورة النمل ہے اور اس جگہ لفظ دابۃ الارض سے ایک ایسا طائفہ انسانوں کا مراد ہے جو آسمانی روح اپنے اندر نہیں رکھتے لیکن زمینی علوم وفنون کے ذریعہ سے منکرینِ اسلام کو لاجواب کرتے ہیں اور اپنا علم کلام اور طریق مناظرہ تائید دین کی راہ میں خرچ کر کے بجان و دل خدمت شریعت غر ابجالاتے ہیں۔ سو وہ چونکہ در حقیقت زمینی ہیں آسمانی نہیں اور آسمانی روح کامل طور پر اپنے اندر نہیں رکھتے اس لئے دابۃ الارض کہلاتے ہیں اور چونکہ کامل تزکیہ نہیں رکھتے اور نہ کامل وفاداری، اس لئے چہرہ ان کا تو انسانوں کا ہے مگر بعض اعضاء ان کے بعض دوسرے حیوانات سے مشابہہ ہیں ۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے وَ إِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمُ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِايْتِنَا لَا يُوقِنُونَ یعنی جب ایسے دن آئیں گے جو کفار پر عذاب نازل ہو اور ان کا وقت مقدر قریب آجائے گا تو ہم ایک گروہ دابۃ الارض کا زمین میں سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کا ہوگا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا یعنی وہ علماء ظاہر ہوں گے جن کو علم کلام اور فلسفہ میں ید طولیٰ ہوگا۔ وہ جابجا اسلام کی حمایت میں کھڑے ہو جائیں گے اور اسلام کی سچائیوں کو استدلالی طور پر مشارق مغارب میں پھیلائیں گے اور اس جگہ اَخْرَجْنَا کا لفظ اس وجہ سے اختیار کیا کہ آخری زمانہ میں ان کا خروج ہوگا نہ حدوث یعنی تخی طور پر یا کم مقدار کے طور پر تو پہلے ہی سے تھوڑے بہت ہر یک زمانہ میں وہ پائے جائیں گے لیکن آخری زمانہ میں بکثرت اور نیز اپنے کمال لائق کے ساتھ پیدا ہوں گے اور حمایت اسلام میں جا بجا واعظین کے منصب پر کھڑے ہو جائیں گے اور شمار میں بہت بڑھ جائیں گے۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۶۹، ۳۷۰) آثار القیامۃ میں لکھا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے پوچھا گیا کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ دابۃ الارض آپ ہی ہیں تب آپ نے جواب دیا کہ دابتہ الارض میں تو کچھ چارپایوں اور کچھ پرندوں کی بھی مشابہت ہو گی مجھ میں وہ کہاں ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ دابۃ الارض اسم جنس ہے جس سے ایک طائفہ مراد ہے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۶۹ حاشیه ) دابۃ الارض یعنی وہ علماء و واعظین جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے ابتداء سے چلے آتے ہیں لیکن قرآن کا مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ان کی حد سے زیادہ کثرت ہوگی اور ان کے خروج سے مراد وہی ان کی کثرت ہے۔ اور یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جیسی ان چیزوں کے بارے میں جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں