تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 226
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۶ سورة النمل ہوتا۔ پس دعا میں بھی جب تک سچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے۔ قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے جیسا کہ فرمایا اَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السوء الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۶ مورخه ۲ مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۵) وَ يَقُولُونَ مَتَى هُذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ خدا چاہتا ہے کہ نیکوں کو بچائے اور بدوں کو ہلاک کرے۔ اگر وقت اور تاریخ بتلائی جائے تو ہر ایک شریر سے شریر اپنے واسطے بچاؤ کا سامان کر سکتا ہے۔ اگر وقت کے نہ بتلانے سے پیشگوئی قابل اعتراض ہو جاتی ہے تو پھر تو قرآن شریف کی پیشگوئیوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہاں بھی اس قسم کے لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ متى هذا الْوَعْدُ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ہمیں وقت اور تاریخ بتلاؤ۔ مگر بات یہ ہے کہ وعید کی پیشگوئیوں میں تعین نہیں ہوتا ورنہ کا فر بھی بھاگ کر بچ جائے۔ ( بدر جلد نمبر ۱۰ مورخه ۸ رجون ۱۹۰۵ ء صفحه ۲) إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْ بِرِينَ ) بخاری کے صفحہ ۱۸۳ میں یہ حدیث جو لکھی ہے قَالَ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا اس حدیث کو حضرت عائشہ صدیقہ نے اس کے سیدھے اور حقیقی معنے کے رو سے قبول نہیں کیا اس عذر سے کہ یہ قرآن کے معارض ہے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوتی اور ابن عمر کی حدیث کو صرف اسی وجہ سے رد کر دیا ہے کہ ایسے معنے معارض قرآن ہیں۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۰۹ ) وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمُ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِايْتِنَا لَا يُوْقِنُونَ وَ يَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِمَّنْ يُكَذِّبُ بِأَيْتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ حَتَّى إِذَا جَاءُ وَ قَالَ أَكَذَّبْتُمْ بِأَيْتِي وَ لَمْ تُحِيطُوا بِهَا عِلْمًا أَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ بِمَا ظَلَمُوا فَهُمْ لَا يَنْطِقُونَ ) دابۃ الارض سے مراد کوئی لا یعقل جانور نہیں بلکہ بقول حضرت علی رضی اللہ عنہ آدمی کا نام ہی دابۃ الارض