تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 197

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۷ سورة الفرقان کامل عابد وہی ہو سکتا ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے لیکن اس آیت میں اور بھی صراحت ہے اور وہ آیت یہ ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ یعنی ان لوگوں کو کہہ دو کہ اگر تم لوگ رب کو نہ پکارو تو میرا رب تمہاری پرواہ ہی کیا کرتا ہے یا دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ عابد کی پروا کرتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰ار جولائی ۱۹۰۲ صفحه (۴) انسانوں میں سے بھی جو سب سے زیادہ قابلِ قدر ہے اسے اللہ تعالی محفوظ رکھتا ہے اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا سچا تعلق رکھتے اور اپنے اندرونہ کو صاف رکھتے ہیں اور نوع انسان کے ساتھ خیر اور ہمدردی سے پیش آتے ہیں اور خدا کے سچے فرماں بردار ہیں۔ چنانچہ قرآن شریف سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ اس کے مفہوم مخالف سے صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ دوسروں کی پروا کرتا ہے اور وہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو سعادت مند ہوتے ہیں ۔ وہ تمام کسریں ان کے اندر سے نکل جاتی ہیں جو خدا سے دور ڈال دیتی ہیں اور جب انسان اپنی اصلاح کر لیتا ہے اور خدا سے صلح کر لیتا ہے تو خدا اس کے عذاب کو بھی ٹلا دیتا ہے خدا کو کوئی ضد تو نہیں چنانچہ اس کے متعلق بھی صاف طور پر فرمایا ہے مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَا بِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمُ (النساء : ۱۴۸) یعنی خدا نے تم کو عذاب دے کر کیا کرنا ہے اگر تم دین دار ہو جاؤ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ راکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۶) مومن شخص کا کام ہے کہ پہلے اپنی زندگی کا مقصد اصلی معلوم کرے اور پھر اس کے مطابق کام کرے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ ۔ خدا کو تمہاری پرواہی کیا ہے اگر تم اس کی عبادت نہ کرو اور اس سے دعائیں نہ مانگو۔ یہ آیت بھی ۔۔۔۔ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات : ۵۷) ہی کی شرح ہے۔ الحکم جلدی نمبر ۱۴ مورخہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۶) جب انسان کا ایک اصول ہو جاوے کہ زیستن از بهر خوردن است اس وقت اس کی نظر ( ذکر ۔ ناقل ) پر نہیں رہتی بلکہ وہ دنیا کے کاروبار اور تجارت ہی میں منہمک ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ اور رجوع کا خیال بھی نہیں رہتا اس وقت اس کی زندگی قابلِ قدر وجود نہیں ہوتی ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ یعنی میرا رب تمہاری پر واہ کیا رکھتا ہے اگر تم اس کی بندگی نہ کرو۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۷ ارستمبر ۱۹۰۴ء صفحه (۴) خدا تعالیٰ کو تو اس بات کی مطلق پرواہ نہیں ہے کہ تم اس کی طرف میلان رکھو یا نہ ۔ وہ فرماتا ہے قُلْ مَا