تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 153

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۳ سورة النور بَيْنَ كِتَابِ اللهِ وَبَيْنَ قَوْلِ رَسُولِهِ تفریق پیدا کریں۔ یہ لوگ تو افتراء کرنے والے ہیں اور قَوْمٌ مُّفْتَرُونَ وَقَدْ صَرَّحَ اللهُ حَقَّ اللہ تعالیٰ نے فرقان مجید میں خوب کھول کر بیان کر دیا ہے۔ التَّصْرِيحِ فِي الْفُرْقَانِ فَبِأَيِّ حَدِيثِ پس وہ قرآن کو چھوڑ کر اور کس بات پر ایمان لائیں گے یہ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ يُؤْثِرُونَ الشَّكَ عَلَی لوگ شک کو یقین پر ترجیح دیتے ہیں اور یہ ہلاک ہونے الْيَقِينِ وَهُذَا هُوَ مِنْ سِيرِ قَوْمٍ والوں کا راستہ ہے۔ اے لوگو! سنو! یہ اللہ تعالیٰ کی طرف يَهْلِكُونَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا كَانَ سے ایک وعدہ تھا اور اس نے دونوں سلسلوں کو اپنے وعدہ وَعْدًا مِنَ اللَّهِ فَسَوَى السِّلْسِلَتَيْنِ كَمَا کے مطابق برابر کر دیا۔ پس کیوں تم اللہ تعالیٰ کے متعلق وَعَدَ فَمَا لَكُمْ تُجَوِّزُونَ الْخُلْفَ عَلَى الله خلاف ورزی جائز قرار دیتے ہو اور اس سے ڈرتے نہیں۔ وَلَا تَخَافُونَ أَتُعِزُّونَ إِلَى اللهِ نَكُتَ کیا تم اللہ تعالیٰ کی طرف عہد شکنی منسوب کرتے ہو۔ وہ الْعَهْدِ وَالْوَعْدِ؟ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا ذات اس سے جو تم خیال کرتے ہو پاک اور بلند ہے۔ کیا تَزْعُمُونَ أَظَنَنْتُمْ أَنَّ سِلْسِلَةَ الْمُصْطَفى تم نے خیال کر لیا کہ سلسلہ محمدی سلسلہ موسوی کے مشابہ نہیں لَا تُشَابِهُ سِلْسِلَةً مُوسَى وَإِنْ هَذَا إِلَّا اور یہ تو قرآن کریم کی تکذیب ہے اگر تم سمجھو۔ کیا اس کی تَكْذِيبُ الْقُرْآنِ إِنْ كُنْتُمْ تَفْهَمُونَ ابتداء اس کی ابتداء سے اور اس کی انتہاء اس کی انتہاء سے أَلا يُشَابِهُ أَوَّلُهَا بِأَوَّلِهَا وَآخِرُهَا بِآخِرِهَا : مشابہ نہیں۔ تم بہت برا فیصلہ کر رہے ہو۔ کیا تم موسیٰ علیہ السلام سَاءَ مَا تَحْكُمُونَ أَرَفَعْتُمْ مُوسَی کی شان کو بلند کرو گے اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی وَوَضَعْتُمُ الْمُصْطَفَى أَن لَّكُمْ وَلِمَا شان کو کم کرو گے ۔ افسوس تم پر اور اس کارروائی پر جو تم تَصْنَعُونَ أَتُخْسِرُونَ الْقِسْطَاسَ بَعْدَ کرتے ہو ۔ کیا تم میزان کو اس کے برابر ہونے کے بعد کم کر تَعْدِيلِهِ وَلَا تَعْدِلُونَ كِفَتَيْهِ وَلا رہے ہو اور تم اس کے دونوں پلڑوں کو برابر نہیں کرتے اور تم تُقْسِطُونَ وَإِنَّ اللهَ أَرَى فَضْلَ هَذِهِ انصاف سے کام نہیں لیتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے پر شریعت السِّلْسِلَةَ بِخَتُمِ الْأَمْرِ عَلَيْهَا ثُمَّ تَأْتُونَ کو ختم کر کے اس کی فضیلت ظاہر کر دی ہے۔ پھر باوجود اس بِعِيسَى وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ لا کے جانتے بوجھتے ہوئے تم عیسیٰ کو لاتے ہو۔ تمہیں کیا ہو گیا تُؤْتُونَ ذَا فَضْلٍ فَضْلَهُ وَتَظْلِمُونَ؟ ہے کہ تم صاحب فضیلت کو اس کی فضیلت نہیں دیتے اور أَتَقْطَعُونَ رِجْلَ هَذِهِ السِّلْسِلَةِ وَتُبْقُونَ اس کا حق مارتے ہو ۔ کیا تم اس سلسلہ کے پاؤں کاٹنا چاہتے ؟