تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 139
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۹ سورة النور خلیفوں کا عین نہ ہوں بلکہ غیر ہوں ۔ * وجہ یہ کہ مشابہت اور مماثلت میں من وجہ مغائرت ضروری ہے اور کوئی چیز اپنے نفس کے مشابہہ نہیں کہلا سکتی۔ پس اگر فرض کر لیں کہ آخری خلیفہ سلسلہ محمد یہ کا جو تقابل کے لحاظ سے حضرت عیسی علیہ السلام کے مقابل پر واقع ہوا ہے جس کی نسبت یہ ماننا ضروری ہے کہ وہ اس اُمت کا خاتم الاولیاء ہے۔** جیسا کہ سلسلہ موسویہ کے خلیفوں میں حضرت عیسی خاتم الانبیاء ہے۔ اگر در حقیقت وہی عیسیٰ علیہ السلام ہے جو دوبارہ آنے والا ہے تو اس سے قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ قرآن جیسا کہ گھا کے لفظ سے مستنبط ہوتا ہے دونوں سلسلوں کے تمام خلیفوں کو من وجہ مغائر قرار دیتا ہے اور یہ ایک نص قطعی ہے کہ اگر ایک دنیا اس کے مخالف اکٹھی ہو جائے تب بھی وہ اس نص واضح کو رد نہیں کر سکتی کیونکہ جب پہلے سلسلہ کا عین ہی نازل ہو گیا تو وہ مغائرت فوت ہو گئی اور لفظ گما کا مفہوم مفہوم باطل ہو گیا۔ پس اس صورت میں تکذیب قرآن شریف لازم ہوئی ۔ وَهَذَا بَاطِلٌ وَكُلُّمَا يَسْتَلْزِمُ الْبَاطِلَ فَهُوَ بَاطِلٌ یادر ہے کہ قرآن شریف نے آیت کما اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ میں وہی گیا استعمال کیا ہے جو آیت كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المزمل : ۱۶) میں ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص یہ دعوی کرے جو جبکہ بوجہ کما کے لفظ کے جو آیت كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ میں موجود ہے محمدی سلسلہ کے خلیفوں کی نسبت وجوباً و قطعاً مان لیا گیا ہے کہ وہ وہی خلیفے نہیں ہیں جو موسوی سلسلہ کے خلیفے تھے ہاں ان خلیفوں سے مشابہ ہیں اور نیز ساتھ اس کے واقعات نے بھی ظاہر کر دیا ہے کہ وہ لوگ پہلے خلیفوں کے عین نہیں ہیں بلکہ غیر ہیں۔ تو پھر آخری خلیفہ اس سلسلہ محمدیہ کی نسبت جو مسیح موعود ہے کیوں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ وہ پہلے مسیح کا عین ہے؟ کیا وہ کما کے لفظ کے نیچے نہیں ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ حسب منشاء گھا کے لفظ کے محمدی سلسلہ کا مسیح اسرائیلی مسیح کا غیر ہونا چاہئے نہ عین۔ عین سمجھنا تو قرآن کے منطوق نص پر صریح حملہ ہے بلکہ قرآن شریف کی صریح تکذیب ہے اور نیز ایک بے جا تحکم کہ باراں خلیفوں کو تو حسب منشاء گہا کے لفظ کے اسرائیلی خلیفوں کا غیر سمجھنا اور پھر مسیح موعود کو جو سلسلہ موسویہ کے مقابل پر سلسلہ محمدیہ کا آخری خلیفہ ہے پہلے مسیح کا عین قرار دے دینا ۔ وَهَذِهِ نُكْتَةٌ مُبْتَكِرَةً وَحُجَّةً بَاهِرَةٌ وَدُرَّةٌ مِنْ دُرَرٍ تَفَرَّدْتُ بِهَا فَخُذُوهَا بِقُوَّةٍ وَاشْكُرُوا اللَّهَ بِآتَابَةٍ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمَحْرُومِينَ - منه ** شیخ محی الدین ابن عربی اپنی کتاب فصوص میں مہدی خاتم الاولیاء کی ایک علامت لکھتے ہیں کہ اس کا خاندان چینی حدود میں سے ہوگا اور اس کی پیدائش میں یہ ندرت ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک لڑکی بطور تو ام پیدا ہو گی ۔ یعنی اس طرح پر خدا اناث کا مادہ اس سے الگ کر دے گا۔ سو اسی کشف کے مطابق اس عاجز کی ولادت ہوئی ہے اور اسی کشف کے مطابق میرے بزرگ چینی حدود سے پنجاب میں پہنچے ہیں ۔ منہ