تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 138
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۸ سورة النور الحمد لله والمنة کہ ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بخاری اور مسلم میں یہ حدیث متفق علیہ ہے جو جابر بن سمرہ سے ہے اور وہ یہ ہے لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ۔ یعنی بارہ خلیفوں کے ہوتے تک اسلام خوب قوت اور زور میں رہے گا مگر تیرھواں خلیفہ جو مسیح موعود ہے اُس وقت آئے گا جبکہ اسلام غلبۂ صلیب اور غلبہ دجالیت سے کمزور ہو جائے گا اور وہ بارہ خلیفے جو غلبہ اسلام کے وقت آتے رہیں گے وہ سب کے سب قریش میں سے ہوں گے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم میں سے ہوں گے۔ * مگر مسیح موعود جو اسلام کے ضعف کے وقت آئے گا وہ قریش کی قوم میں سے نہیں ہوگا کیونکہ ضرور تھا کہ جیسا کہ موسوی سلسلہ کا خاتم الانبیاء اپنے باپ کے رو سے حضرت موسیٰ کی قوم میں سے نہیں ہے ایسا ہی محمدی سلسلہ کا خاتم الاولیاء قریش میں سے نہ ہو اور اسی جگہ سے قطعی طور پر اس بات کا فیصلہ ہو گیا کہ اسلام کا مسیح موعود اسی امت میں سے آنا چاہئے کیونکہ جبکہ نص قطعی قرآنی یعنی گھا کے لفظ سے ثابت ہو گیا کہ سلسلہ استخلاف محمدی کا سلسلہ استخلاف موسوی سے مماثلت رکھتا ہے جیسا کہ اُسی گما کے لفظ سے ان دونبیوں یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی مماثلت ثابت ہے جو آیت کیا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا ( المزمل : ١٦) سے سمجھی جاتی ہے تو یہ مماثلت اسی حالت میں قائم رہ سکتی ہے جبکہ محمدی سلسلہ کے آنے والے خلیفے گزشتہ الفاظ حدیث یہ ہیں ۔ عن جابر بن سمرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَى عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ متفق عليه مشکوة شریف باب مناقب قریش ۔ یعنی اسلام باراں خلیفوں کے ظہور تک غالب رہے گا اور وہ تمام خلیفے قریش میں سے ہوں گے۔ اس جگہ یہ دعویٰ نہیں ہو سکتا کہ مسیح موعود بھی انہی باراں میں داخل ہے کیونکہ متفق علیہ یہ امر ہے کہ مسیح موعود اسلام کی قوت کے وقت نہیں آئے گا بلکہ اس وقت آئے گا جبکہ زمین پر نصرانیت کا غلبہ ہوگا جیسا کہ يَكْسِرُ الصَّلِیب کے فقرہ سے مستنبط ہوتا ہے۔ پس ضرور ہے کہ مسیح کے ظہور سے پہلے اسلام کی قوت جاتی رہے اور مسلمانوں کی حالت پر ضعف طاری ہو جائے اور اکثر ان کے دوسری طاقتوں کے نیچے اسی طرح محکوم ہوں جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ظہور کے وقت یہودیوں کی حالت ہو رہی تھی۔ چونکہ حدیثوں میں مسیح موعود کا خاص طور پر تذکرہ تھا اس لئے باراں خلیفوں سے اس کو الگ رکھا گیا کیونکہ مقدر ہے کہ وہ نزول شدائد و مصائب کے بعد آوے اور اس وقت آوے جبکہ اسلام کی حالت میں ایک صریح انقلاب پیدا ہو جائے اور اسی طرز سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے تھے یعنی ایسے وقت میں جبکہ یہودیوں میں ایک صریح زوال کی علامت پیدا ہوگئی تھی پس اس طریق سے حضرت موسیٰ کے خلیفے بھی تیرہ ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفے بھی تیرہ اور جیسا کہ حضرت موسیٰ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام چودھویں جگہ تھے ایسا ہی ضرور تھا کہ اسلام کا مسیح موعود بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چودھویں جگہ پر ہو اسی مشابہت سے مسیح موعود کا چودھویں صدی میں ظاہر ہونا ضروری تھا۔ منہ