تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 133
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۳ سورة النور وَجَعَلَ خَاتَمَ خُلَفَائِهِ رَسُولَهُ ابْنَ سلسلہ کا خاتم الخلفاء حضرت عیسیٰ کو بنایا پس حضرت عیسی اس مَرْيَمَ عِيسَى فَكَانَ عِيسَى آخِرَ لِبَنِ عمارت کی آخری اینٹ تھے اور ایک دلیل تھے اس عمارت هَذِهِ الْعِمَارَةِ وَعِلْمًا لِسَاعَةِ زَوَالِهَا کے زوال کی گھڑی پر اور ایک عبرت تھے اس شخص کے لئے وَعِبْرَةً لِمَنْ يَخْشَى - ثُمَّ بَعَثَ الله جو ڈرتا ہو۔ پھر خدا نے ہمارے پیغمبر امی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ نَبِيَّنَا الْأُمِّي فِي أَرْضِ أُمِّ الْقُرْیٰ کی زمین میں مبعوث فرمایا اور ان کو مثیل موسیٰ علیہ السلام وَجَعَلَهُ مَثِيلٌ مُوسَى وَجَعَلَ سِلْسِلَة بنایا اور ان کے خلیفوں کا سلسلہ حضرت موسیٰ کے خلیفوں کے خُلَفَاءِ - كَمَثَلِ سِلْسِلَةِ خُلَفَاءِ سلسلہ کی طرح اور ان کے مشابہ کر دیا تا کہ یہ سلسلہ اس سلسلہ الْكَلِيمِ لِتَكُونَ رِدْءًا لَهَا وَإِنَّ فِي هَذَا کا مددگار ہو اور اس میں دیکھنے والوں کے لئے ایک نشان ہے لَايَةً لِمَنْ يَرَى - وَإِنْ شِئْتَ فَاقْرَءُ آيَةَ اور اگر تو چاہے تو اس آیت کو پڑھ لے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَلَا تَتَّبِعَ آمَنُوا مِنْكُمُ اور اپنے ہوا و ہوس کا پیرومت بن کیونکہ اس الْهَوَى فَإِنَّ فِيهَا وَعْدَ الْإِسْتِخْلَافِ آیت میں صاف وعدہ اس امت کے لئے ایسے خلیفوں کا لِهَذِهِ الْأُمَّةِ كَمَثَلِ الَّذِينَ اسْتُخْلِفُوا ہے جو ان خلیفوں کی طرح ہوں جو بنی اسرائیل میں گزر چکے مِنْ قَبْلُ وَ الْكَرِيمُ إِذَا وَعَدَ وَفَا - وَإِنَّا ہیں اور کریم جب وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا کرتا ہے اور ہم ان لَا نَعْلَمُ اسْمَاءَ خُلَفَاءِ سَبَقُونَا مِنْ تمام خلیفوں کے نام نہیں جانتے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں هَذِهِ الْأُمَّةِ وَ مِنْ قَبْلُ إِلَّا قَلِيلًا من مگر اس امت کے اور اگلی امتوں کے چند گزرے ہوئے مَّطَى وَمَا قَصَّ عَلَيْنَا رَبُّنَا قِصَصَ آدمی ۔ اور خدا نے ان سب کے نام سے بھی ہم کو اطلاع نہیں كُلِّهِمْ وَمَا أَنْبَأَنَا بِأَسْمَائِهِمْ فَلَا نُؤْمِنُ دی پس ہم ان پر اجمالی طور پر ایمان لاتے ہیں اور ان کے همْ إِلَّا إِجْمَالًا وَنُفَوِّضُ تَفْصِيلَهُمْ ناموں کی تفصیل کو اپنے خدا کو سونپتے ہیں مگر ہم قرآن کی نص إلى رَبَّنَا الْأَعْلَى وَلَكِنَّا الْجِئْنَا بِنَضِ کے رو سے اس بات پر مجبور ہو گئے کہ اس بات پر ایمان میٹی کے الْقُرْآنِ إِلَى أَنْ تُؤْمِنَ بِخَلِيفَةٍ مِنَّا هُوَ لائیں کہ آخری خلیفہ اسی امت میں سے ہوگا اور وہ علیہ اخِرُ الْخُلَفَاءِ عَلَى قَدَمٍ عِيسَی وَ مَا كَانَ قدم پر آئے گا اور کسی مومن کی مجال نہیں کہ اس کا انکار کرے لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَكْفُرَ بِهِ فَإِنَّهُ كُفُرْ بِكِتَابِ کیونکہ یہ قرآن کا انکار ہے اور جو کوئی قرآن کا منکر ہے وہ اللهِ وَلَا يُفْلِحُ الْكَافِرُ حَيْثُ آتی وَفَكِّرُ جہاں جاوے خدا کے عذاب کے نیچے ہے اور تو قرآن میں