تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 83
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۳ سورة النور سے عدالت میں ثابت نہیں کر دیا کہ وہ زانیہ نہیں ہیں خواہ وہ رسولوں اور نبیوں کی عورتیں ہوں اور خواہ صحابہ کی اور خواہ اولیاء اللہ کی اور خواہ اہلِ بیت کی عورتیں ہوں اور ظاہر ہے کہ آیت يَرْمِ بِہ بَرِیا میں بری کے لفظ کے ایسے معنے کرنے صاف الحاد ہے جو ہرگز خدا تعالیٰ کا منشاء نہیں ہے۔ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۴۲، ۴۴۳) وَ الَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهْدَتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصُّدِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَذِبِينَ ۔ شخص ملزم چار قسمیں خدا کی کھائے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں قسم میں یہ کہے کہ اس پر خدا کی لعنت ہوا گر وہ جھوٹا ہے۔ ( مجموعہ اشتہارات، جلد دوم صفحه ۶۲۵) وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسْكِينَ وَ الْمُهْجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلْيَعْفُوا وَ لْيَصْفَحُوا اَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَ اللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۔ جیسے خدا تعالیٰ نے اپنے اخلاق میں یہ داخل کر رکھا ہے کہ وہ وعید کی پیشگوئی کو تو بہ واستغفار اور دعا اور صدقہ سے ٹال دیتا ہے اسی طرح انسان کو بھی اس نے یہی اخلاق سکھائے ہیں جیسا کہ قرآن شریف اور ، حدیث سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جو منافقین نے محض خباثت سے خلاف واقعہ تہمت لگائی تھی اس تذکرہ میں بعض سادہ لوح صحابہؓ بھی شریک ہو گئے تھے ایک صحابی ایسے تھے کہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر سے دو وقتہ روٹی کھاتے تھے۔ حضرت ابوبکر نے ان کی اس خطا پر قسم کھائی تھی اور وعید کے طور پر عہد کر لیا تھا کہ میں اس بیجا حرکت کی سزا میں اس کو کبھی روٹی نہ دوں گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی وَلِيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا اَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ تب حضرت ابوبکر نے اپنے اس عہد کو توڑ دیا اور بدستور روٹی لگا دی۔ اسی بناء پر اسلامی اخلاق میں یہ داخل ہے کہ اگر وعید کے طور پر