تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 82
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۲ سورة النور جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَ أُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ ۔ جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں اور اس تہمت کے ثابت کرنے کے لئے چار گواہ نہ لا سکیں تو ان کو اسی درے مارو اور آئندہ کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو اور یہ لوگ آپ ہی بدکار ہیں ۔ اس جگہ مُحصنت کے لفظ کے وہی معنے ہیں جو آیت گذشتہ میں بری کے لفظ کے معنے ہیں ۔ اب اگر بموجب قول مولوی محمد حسین ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کے بری کے لفظ کا مصداق صرف وہ شخص ہو سکتا ہے کہ جس پر اول فرد قرارداد جرم لگائی جاوے اور پھر گواہوں کی شہادت سے اس کی صفائی ثابت ہو جائے اور استغاثہ کا ثبوت ڈیفنس کے ثبوت سے ٹوٹ جائے تو اس صورت میں یعنی اگر بیری کے لفظ میں جو آیت ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيَّا (النساء : ۱۱۳) میں ہے یہی منشاء قرآن کا ہے۔ تو کسی عورت پر مثلاً زنا کی تہمت لگانا کوئی جرم نہ ہوگا بجز اس صورت کے کہ اس نے معتمد گواہوں کے ذریعہ سے عدالت میں ثابت کر دیا ہو کہ وہ زانیہ نہیں اور اس سے یہ لازم آئے گا کہ ہزار ہا مستور الحال عورتیں جن کی بد چلنی ثابت نہیں حتی کہ نبیوں کی عورتیں اور صحابہؓ کی عورتیں اور اہلِ بیت میں سے عورتیں تہمت لگانے والوں سے بجز اس صورت کے مخلصی نہ پاسکیں اور نہ بری کہلانے کی مستحق ٹھہر سکیں جب تک کہ عدالتوں میں حاضر ہو کر اپنی عفت کا ثبوت نہ دیں حالانکہ ایسی تمام عورتوں کی نسبت جن کی بد چلنی ثابت نہ ہو خدا تعالیٰ نے بار ثبوت الزام لگانے والوں پر رکھا ہے اور ان کو بری اور مُحصنت کے نام سے پکارا ہے جیسا کہ اسی آیت ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاء سے سمجھا جاتا ہے۔ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۱۹،۳۱۸) جو لوگ ایسی عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں جن کا زنا کار ہونا ثابت نہیں ہے بلکہ مستور الحال ہیں اگر وہ لوگ چار گواہ سے اپنے اس الزام کو ثابت نہ کریں تو ان کو اسی درے مارنے چاہئیں ۔ اب دیکھو کہ ان عورتوں کا نام خدا نے بری رکھا ہے جن کا زانیہ ہونا ثابت نہیں ۔ پس بری کے لفظ کی یہ تشریح بعینہ ڈسچارج کے مفہوم سے مطابق ہے کیونکہ اگر بری کا لفظ جو قرآن نے آیت یزم به بریا میں استعمال کیا ہے صرف ایسی صورت پر بولا جاتا ہے کہ جبکہ کسی کو مجرم ٹھہرا کر اس پر فرد قرارداد جرم لگائی جائے۔ اور پھر وہ گواہوں کی شہادت سے اپنی صفائی ثابت کرے اور استغاثہ کا ثبوت ڈیفنس کے ثبوت سے ٹوٹ جائے تو اس صورت میں ہر ایک شریر کو آزادی ہوگی کہ ایسی تمام عورتوں پر زنا کا الزام لگا وے جنہوں نے معتمد گواہوں کے ذریعہ