تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 61
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٦١ سورة النحل خدا تعالیٰ نے جو ملائکہ کی تعریف کی ہے وہ ہر ایک ذرہ ذرہ پر صادق آسکتی ہے جیسے فرمایا : اِن مِنْ شَيْءٍ إلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ (بنی اسرائیل : ۴۵) ویسے ملائکہ کی نسبت فرمایا يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ اس کی تشریح نسیم دعوت میں خوب کر دی ہے۔ ہر ایک ذرہ ملائکہ میں داخل ہے اگر ان اعلیٰ کی سمجھ نہیں آتی تو پہلے ان چھوٹے چھوٹے ملائک پر نظر ڈال کر دیکھو ملائکہ کا انکار انسان کو دہر یہ بنادیتا ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخہ ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۹) اہل اللہ کہتے ہیں کہ جب انسان عابد کامل ہو جاتا ہے اس وقت اس کی ساری عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں پھر خود ہی اس جملہ کی شرح کرتے ہیں کہ اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز روزہ معاف ہو جاتا ہے۔ نہیں بلکہ اس سے یہ مطلب ہے کہ تکالیف ساقط ہو جاتی ہیں یعنی عبادات کو وہ ایسے طور پر ادا کرتا ہے جیسے دونوں وقت روٹی کھاتا ہے۔ وہ تکالیف مدرک الحلاوت اور محسوس اللذات ہو جاتی ہیں۔ پس ایسی حالت پیدا کرو کہ تمہاری تکالیف ساقط ہو جائیں اور پھر خدا تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور نہی سے بچنا فطرتی ہو جاوے ۔ جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے تو گویا ملائکہ میں داخل ہو جاتا ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ کے مصداق ہیں۔ الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخہ ۳۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۵) وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنْتِ سُبْحَنَهُ وَلَهُم مَّا يَشْتَهُونَ ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا بیٹیاں رکھتا ہے حالانکہ وہ ان سب نقصانوں سے پاک ہے۔ (براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۰ حاشیه در حاشیه نمبر (۳) يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ اَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونِ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التَّرَابِ اَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ ) يدسه في التراب یعنی مشرک اپنی لڑکی کو زندہ درگور کرتا ہے اور فرماتا ہے وَ إِذَا الْمَوْعِدَةُ سُبِلَتْ بِاتِي ذنب قتلت (التکویر : ۹، ۱۰) یعنی قیامت کو زندہ در گورلڑکیوں سے سوال ہوگا کہ وہ کس گناہ سے قتل کی گئیں ۔ یہ اشارہ ملک کی موجودہ حالت کی طرف کیا کہ ایسے ایسے برے کام ہو رہے ہیں ۔ - ٩ ، ( نور القرآن نمبرا، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۳۷، ۳۳۸ حاشیه )