تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 60

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٦٠ سورة النحل ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے دوبارہ نازل ہو گا مگر حضرت مسیح نے اس کی یہی تعبیر کی تھی کہ یہی شخص یعنی یوحنا ( بی ) ہی الیاس ہے اور یہ اس (الیاس) کی خو بو لے کر آیا ہے اسی کو ایلیا مان لو۔ وہ آسمان سے دوبارہ نہیں آوے گا جس نے آنا تھا وہ آچکا۔ چاہو مانو چاہو نہ مانو ۔ غرض حضرت عیسی پر بھی یہ ایک مصیبت پڑ چکی تھی اور ان کا فیصلہ ہمارے اس مقدمہ کے لئے ایک دلیل ہو سکتا ہے۔ اگر حضرت عیسی یہود کے مقابل میں حق پر تھے تو ہمارا معاملہ بھی صاف ہے ورنہ پہلے حضرت عیسی کی نبوت کا انکار کریں۔ بعد میں ہمارا معاملہ آئے گا۔ الحکم جلدے نمبر ۷ ۱ مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶) يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ دس ہزار صحابہ کو پہلی کتابوں میں ملائکہ لکھا ہے اور حقیقت میں ان کی شان ملائکہ ہی کی سی تھی۔ انسانی قومی بھی ایک طرح پر ملائکہ ہی کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ جیسے ملائکہ کی یہ شان ہے کہ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ اسی طرح پر انسانی قوی کا خاصہ ہے کہ جو حکم ان کو دیا جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں ۔ ایسا ہی تمام قومی اور جوارح حکم انسانی کے نیچے ہیں۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۳۰ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۱ ء صفحه ۲) کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ الله - اللہ تعالیٰ کے اخلاق میں رنگین ہو جاوے۔ جب تک اس مرتبہ تک نہ پہنچ جائے نہ تھکے نہ ہارے ۔ اس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا ہو جاتا ہے جو عبادت الہی الہی کی طرف اُسے لئے جاتا ہے اور وہ حالت اس پر وارد ہو جاتی ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُ مَا يُؤْمَرُونَ کی ہوتی ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۱ ء صفحه ۴) ہماری طرف سے تو یہی نصیحت ہے کہ اپنے آپ کو عمدہ اور نیک نمونہ بنانے کی کوشش میں لگے رہو جب تک فرشتوں کی سی زندگی نہ بن جاوے تب تک کیسے کہا جا سکتا ہے کہ کوئی پاک ہو گیا۔ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ فنافی اللہ ہو جانا اور اپنے سب ارادوں اور خواہشات کو چھوڑ کر محض اللہ کے ارادوں اور احکام کا پابند ہو جانا چاہیے کہ اپنے واسطے بھی اور اپنی اولاد، بیوی ، خویش واقارب اور ہمارے واسطے بھی باعث رحمت بن جاؤ۔ مخالفوں کے واسطے اعتراض کا موقع ہرگز ہرگز نہ دینا چاہیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ - (الفاطر : (۳۳) پہلے دونوں صفات ادنیٰ ہیں سابق بالخیرات بننا چاہیے ایک ہی مقام پر ٹھیر جانا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔ (الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۶ مورخه ۲ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۶)