تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 337

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۷ سورة الانبياء فَالْآنَ مَا رَأَيَكَ فِي أَنْبَاءِ قُيِّدَتْ پس اب ان پیشگوئیوں کے بارہ میں تمہاری کیا رائے بِشَرْطِ الرُّجُوعِ وَالتَّوْبَةِ أَلَيْسَ ہے جنہیں تو بہ اور رجوع کی شرط سے مقید کیا گیا ہے۔ کیا یہ بِوَاجِبٍ أَنْ يَرْعَى اللَّهُ شُرُوطَهُ بِالْفَضْلِ ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل کے ساتھ والرحمة ؟ ہ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ا ا صفحه ۲۲۵ تا ۲۲۸) مقررہ شرائط کا لحاظ رکھے ۔ ( ترجمہ از مرتب ) خدا کریم ہے اور وعید کی تاریخ کو تو بہ اور رجوع کو دیکھ کر کسی دوسرے وقت پر ڈال دینا کرم ہے اور چونکہ اس از لی وعدہ کے رو سے یہ تاخیر خدائے کریم کی ایک سنت ٹھہر گئی ہے جو اس کی تمام پاک کتابوں میں موجود ہے اس لئے اس کا نام تخلف وعدہ نہیں بلکہ ایفاء وعدہ ہے کیونکہ سنت اللہ کا وعدہ اس سے پورا ہوتا ہے بلکه تخلف وعدہ اس صورت میں ہوتا کہ جب سنت اللہ کا عظیم الشان وعدہ ٹال دیا جاتا جاتا مگر ایسا ہونا ممکن نہیں کیوں کہ اس صورت میں خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں کا باطل ہونا لازم آتا ہے۔ مجموعه اشتہارات جلد اول صفحه ۴۳۷ حاشیہ ) تمام قرآن اس تعلیم سے بھرا پڑا ہے کہ اگر تو بہ استغفار قبل نزول عذاب ہو تو وقت نزول عذاب ٹل جاتا ہے۔ بائبل میں ایک بنی اسرائیل کے بادشاہ کی نسبت لکھا ہے کہ اس کی نسبت صاف طور پر وحی وارد ہو چکی تھی کہ پندرہ دن تک اس کی زندگی ہے پھر فوت ہو جائے گا لیکن اس کی دعا اور تضرع سے خدا تعالیٰ نے وہ پندرہ دن کا وعدہ پندرہ سال کے ساتھ بدلا دیا اور موت میں تا خیر ڈال دی۔ یہ قصہ مفسرین نے بھی لکھا ہے بلکہ اور حدیثیں اس قسم کی بہت ہیں جن کا لکھنا موجب طول ہے بلکہ علاوہ وعید کے ٹلنے کے جو کرم مولا میں داخل ہے ا کا بر صوفیہ کا مذہب ہے جو کبھی وعدہ بھی ٹل جاتا ہے اور اس کا ٹلنا موجب ترقی درجات اہل کمال ہوتا ہے دیکھو فیوض الحرمین شاہ ولی اللہ صاحب اور فتوح الغیب سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہما اور وقتوں اور میعادوں کا ٹلنا تو ایک ایسی سنت اللہ ہے جس سے بجز ایک سخت جاہل کے اور کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ دیکھو حضرت موسی کو نزول توریت کے لئے تیس رات کا وعدہ دیا تھا اور کوئی ساتھ شرط نہ تھی مگر وہ وعدہ قائم نہ رہا اور اس پر دس دن اور بڑھائے گئے جس سے بنی اسرائیل گوسالہ پرستی کے فتنہ میں پڑے۔ پس جبکہ اس نص قطعی سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے وعدہ کی تاریخ کو بھی ٹال دیتا ہے جس کے ساتھ کسی شرط کی تصریح نہیں کی گئی تھی تو وعید کی تاریخ میں عند الرجوع تاخیر ڈالنا خود کرم میں داخل ہے اور ہم لکھ چکے ہیں کہ اگر تاریخ