تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 336
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۶ سورة الانبياء اسْتَشْرَفَ بِهِ التَّلَفُ، وَنَسِيَ كُلَّ بَلاء یقین کر لیا کہ وہ سخت آزمائش میں ڈالے گئے ہیں۔ آپ کا سَلَفٍ، وَظَنَّ أَنَّهُ مِنَ الْمُفْتَنِينَ فَمَا فتنہ میں پڑنے کا سبب سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ آپ كَانَ سَبَبُ افْتِنَانِهِ إِلَّا أَنَّهُ اسْتَيْقَنَ نے یہ سمجھا کہ عذاب قطعی اور اٹل ہے اور یہ کہ وہ عذاب آپ أَنَّ الْعَذَابَ قَطْعِ لا يُرَدُّ، وَأَنَّهُ سَيَقَعُ کی خواہش کے مطابق وقتِ مقررہ پر ضرور آئے گا لیکن مقررہ فِي الْمِيعَادِ كَمَا يُوَدُّ فَانْقَضَى وقت گزر گیا اور انہوں نے عذاب کی بوتک بھی نہ سونگھی اور نہ الْمِيعَادُ وَمَا اسْتَنْشَى مِنَ الْعَذَابِ وہ اطمینان وسکون کا لباس زیب تن کر سکے۔ پس اس واقعہ کی رِيحًا، وَمَا اسْتَغْشَى لِبَاسًا مَّرِيحًا، سرگذشت نے آپ کو بے چین کر دیا اور افکار نے آپ پر غلبہ فَأَخْجَرَهُ هُذَا الْإِذْكَارُ، وَاسْتَهْوَتُهُ پالیا اور چونکہ وہ اپنی قوم کی اس حالت کو دیکھ چکے تھے کہ الْأَفْكَارُ، وَكَانَ رَأَى الْقَوْمَ غَالِينَ فِي وہ خصومت میں حد سے بڑھ گئے اور انہوں نے انکار میں الْمِرَاء ، وَمُنْبَرِئِينَ بِالإِباء ، فَحَسِبَ أَنَّهُ جلد بازی سے کام لیا ہے اس پر آپ نے سمجھ لیا کہ وہ قوم کے مِنَ الْمَغْلُوبِينَ فَقَالَ لَنْ أَرْجِعَ مقابلہ میں ہار گئے ہیں پس انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ میں إِلَيْهِمْ كَذَّابًا وَلَنْ أَسْتَمَعَ لَعْنَ کذاب بن کر اپنی قوم کے پاس واپس نہ جاؤں گا اور نہ ہی الْأَشْرَارِ، وَمَا رَأَى طَرِيقًا يَخْتَارَهُ، شریروں کے لعن طعن سنوں گا اور آپ کو کوئی راہ نہ سو بھی جسے فَأَلْقَى نَفْسَهُ فِي الْبَحْرِ الزَّخَارِ، اختیار کرتے لاچار آپ نے اپنے آپ کو بحر ذخار میں ڈال دیا فَتَدَارَكَهُ رُحْمُ رَبِّهِ وَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ لیکن رحمت الہی نے آپ کو اس رنگ میں بچا لیا کہ انہیں اللہ بِحُكْمِ اللهِ الْجَبَّارِ، وَرَأَى مَا رَأی کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور انہوں نے بڑے بِقَلْبٍ حَزِينٍ فَمِنَ الْمَعْلُومِ أَنَّهُ لَوْ غمگین دل کے ساتھ بہت بڑی مصیبت اُٹھائی ۔ پس معلوم ہوا كَانَ شَرْطَ فِي نُزُولِ الْعَذَابِ، لَمَا کہ اگر نزول عذاب میں کوئی شرط ہوتی تو یونس علیہ السلام اس اضْطَرَّ يُونُسُ إِلى هَذَا الْإِضْطِرَابِ، بے قراری کی حالت کو نہ پہنچتے اور ندامت زدہ لوگوں کی طرح وَمَا فَرَّ كَالْمُتَنَدِمِينَ ۔ أَمَا تَقْرَأُ كُتُبَ اپنی قوم سے راہ فرار اختیار نہ کرتے ۔ کیا تم پہلے لوگوں کی کتب الْأَوَّلِينَ وَقَوْلَ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَنتَجِدُ اور حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو نہیں فِيهَا أَثَرًا مِنَ الشَّرْطِ فَأَخْرِجُ لَنَا إِنْ پڑھتے ۔ کیا تم ان میں کوئی شرط پاتے ہو۔ اگر تم سچے ہو تو اسے كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ہمارے سامنے پیش کرو۔