تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 308
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۸ سورة الانبياء وَ مَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلهُ مِنْ دُونِهِ اور جو ان میں سے یہ کہے کہ بدوں خدا کے میں بھی خدا فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِی ہوں سو ایسے شخص کی سزا جہنم ہوگی اور اسی طرح ہم ظالموں کو الظَّلِمِينَ وَاشْتَرَطَ قَوْلَ الظَّالِمِينَ سزا دیا کرتے ہیں اور قرآن نے جو ظالمین کے لفظ کے ساتھ بلفظ مِنْ دُونِهِ لِيُخْرِجَ بِهِ قَوْمًا أَصْبَى من دونه کی شرط لگا دی ہے اور کہا ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ الْحِبُّ قُلُوبَهُمْ وَهَيَّجَ كُرُوبَهُمْ حَتَّی میں خدا کے سوا خدا ہوں سو یہ شرط من دونہ کی یعنی سوا کی غَلَبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَحْوِيَّةُ وَالسُّكُرُ اس واسطے لگائی ہے تا ان لوگوں کو ظالم ہونے سے مستنی رکھے وَجُنُونُ الْعَاشِقِينَ، فَخَرَجَتْ مِنْ جن کے دلوں کو ان کے دوست حقیقی نے اپنی طرف کھینچ لیا أَفْوَاهِهِمْ كَلِمَاتٌ فِي مَقَامِ الْفَنَاءِ اور ان کے دلوں میں بے قراریاں پیدا کر دیں یہاں تک کہ النَّطْرِي وَالْجَذَبَاتِ السَّمَاوِي، وَ وَرَدَ ان کے دلوں پر محویت اور سکر اور عاشقوں ساجنون آ گیا عَلَيْهِمْ وَارِدُ فَكَانُوا مِنَ الْوَالِهِينَ سوفنا نظری کی حالت اور جذب سماوی کے وقت میں ان کے فَقَالَ بَعْضُهُمْ مَا فِي جُبَّنِي إِلَّا الله منہ سے کچھ ایسی باتیں نکل گئیں اور بعض واردات ان پر وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ يَدِيَ هَذِهِ يَدُ اللهِ، ایسے وارد ہوئے کہ وہ عشق کی مستی سے بے ہوشوں کی طرح وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَنَا وَجْهُ اللهِ الَّذِی ہو گئے سو بعض نے اس مستی کی حالت میں کہا کہ میرے جبہ وَجَّهْتُمْ إِلَيْهِ وَأَنَا جَنبُ اللهِ الَّذِی میں خدا ہی ہے اور کوئی نہیں اور بعض نے کہا کہ میرا یہ ہاتھ خدا کا فَرَّطْتُمْ فِيهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَنَا أَقُولُ ہاتھ ہے اور بعض نے کہا کہ میں ہی وجہ اللہ ہوں جس کی طرف وَأَنَا أَسْمَعُ، فَهَلْ فِي الدَّارِ غَيْرِ، وَقَالَ تم نے منہ کیا اور میں ہی جنب اللہ ہوں جس کے حق میں تم بَعْضُهُمْ أَنَا الْحَقِّ فَهُؤُلَاءِ كُلُّهُمْ نے تقصیر کی اور بعض نے کہا کہ میں ہی کہتا ہوں اور میں ہی روشو مُعَقِّوُوْنَ، فَإِنَّهُمْ نَطَقُوا مِنْ غَلَبَةِ سنتا ہوں اور میرے سوا اور گھر میں کون ہے اور بعض نے کہا كَمَالِ الْمَحْوِيَّةِ وَالْإِنْكِسَارِ، لَا مِن کہ میں ہی حق ہوں سو یہ تمام لوگ مرفوع القلم ہیں کیونکہ وہ الرُّعُونَةِ وَالْإِسْتِكْبَارِ، وَحَقَّتْ بِهِمْ کمال محویت سے بولے ہیں نہ رعونت اور تکبر سے اور سُكُرُ صَهْبَاءِ الْعِشْقِ وَجَنَبَاتُ الْحِب شراب عشق کے نشہ اور دوست برگزیدہ برگزیدہ کے جذبات نے ان الْمُخْتَارِ، فَخَرَجَتْ هَذِهِ الْأَصْوَاتُ مِنْ کو گھیر لیا سو یہ آوازیں فنا کی کھڑکی سے نکلیں نہ تکبر کے بالا خُوخَةِ الْفَنَاءِ لَا مِنْ غُرْفَةِ الْخُيَلَاء وَمَا خانہ سے اور دون اللہ کی طرف انہوں نے قدم نہیں اٹھایا