تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 286
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۶ سورة طه إِنَّ هَذَيْنِ چاہیے۔ ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۱۷ حاشیه ) قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى ۔ یعنی کچھ خوف مت کر کہ تو غالب ہے اور فتح تیرے نام ہے۔ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۹۵) مت ڈر غلبہ بھی کو ہے۔ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۹) کچھ خوف مت کر تو ہی غالب ہے۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۱۴) مت خوف کر کہ غلبہ تجھ کو ہے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۶) خدا تعالیٰ کے بندوں کے واسطے بھی اعلی کا لفظ آیا اور ہمیشہ آتا ہے جیسے إِنَّكَ أَنْتَ الاعلیٰ مگر یہ تو انکسار سے ہوتا ہے۔ البدر جلد نمبر ا مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه (۴) یا درکھو علو دو قسم کا ہوتا ہے ایک تو وہ علو ہے جو شیطانی علو آبی وَاسْتَكْبَر میں آیا ہے یا ہے اور شیطان کے حق میں اعلی بھی آیا ہے جیسے فرمایا: ام كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ یعنی تیرا یہ استعلا تکبر کے رنگ میں ہے یا واقعی تو اعلیٰ ہے ورنہ حقیقی علو تو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کے لئے ہے جو اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِت کے موافق اس کو ظاہر کر سکتے ہیں جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فر ما یا لا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلیٰ یہ علو جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کو دیا جاتا ہے وہ انکسار کے رنگ میں ہوتا ہے اور شیطان کا علو استکبار سے ملا ہوا تھا۔ دیکھو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کو فتح کیا تو آپ نے اسی طرح اپنا سر جھکایا اور سجدہ کیا جس طرح پر ان مصائب اور مشکلات کے دنوں میں جھکاتے اور سجدے کرتے تھے جب اسی مکہ میں آپ کی ہر طرح سے مخالفت کی جاتی اور دکھ دیا جاتا تھا۔ جب آپ نے دیکھا کہ میں کس حالت میں یہاں سے گیا تھا اور کس حالت میں اب آیا ہوں تو آپ کا دل خدا کے شکر سے بھر گیا اور آپ نے سجدہ کیا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۷) وَ الْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سُحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ الى Θ ( اس سوال کے جواب میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کافروں نے جو جادو کیا تھا اس کی نسبت آپ کا