تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 285

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ( سوال ہوا کہ آدم کی جنت کہاں تھی؟ فرمایا :) ۲۸۵ سورة طه ہمارا مذہب یہی ہے کہ زمین میں ہی تھی ۔ خدا فرماتا ہے مِنْهَا خَلَقْنَكُمْ وَ فِيهَا نُعِيدُكُمْ ۔ آدم کی - بود و باش آسمان پر یہ بات بالکل غلط ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۳ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۸۲) قَالَ لَهُمْ مُوسَى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَى اللهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ ۚ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى ۔ قرآن شریف میں صد ہا جگہ اس بات کو پاؤ گے کہ خدا تعالیٰ مفتری علی اللہ کو ہر گز سلامت نہیں چھوڑتا اور اسی دنیا میں اس کو سزا دیتا ہے اور ہلاک کرتا ہے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ ایک موقع میں فرماتا ہے کہ قَدْ خَابَ مَنِ افترای یعنی مفتری نامراد مرے گا۔ اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۳۳) افترا کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور مفتری ہمیشہ خائب و خاسر رہتا ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۴ ء صفحه ۷ ) یا د رکھو جو مجھ سے مقابلہ کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں بلکہ اس سے مقابلہ کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اگر ادنی چپراسی کی ہتک کی جائے اور اس کی بات نہ مانی جاوے تو گورنمنٹ سے ہتک کرنے والے یا نہ ماننے والے کو سزا ملتی ہے اور باز پرس ہوتی ہے تو پھر خدا کی طرف سے آنے والے کی بے عزتی کرنا اس کی بات کی پرواہ نہ کرنا کیوں کر خالی جا سکتا ہے میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر میرا سلسلہ خدا کی طرف سے نہیں تو یونہی بگڑ جائے گا خواہ کوئی اس کی مخالفت کرے یا نہ کرے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قَدْ خَابَ مَن افترى - الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ ء صفحہ ۱۳) قَالُوا إِنْ هُذين لَسْحِرْنِ يُرِيدُنِ أَنْ يُخْرِجُكُم مِّنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ يَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ الْمُثْلى ۔ وو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض جگہ خدا تعالیٰ انسانی محاورات کا پابند نہیں ہوتا یا کسی اور زمانہ کے متروکہ ا محاورہ کو اختیار کرتا ہے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ بعض جگہ انسانی گریمر یعنی صرف و نحو کے ماتحت نہیں چلتا اس کی نظیریں قرآن شریف میں بہت پائی جاتی ہیں ۔ مثلاً یہ آیت ان هذين لَسْحِزانِ انسانی نحو کی رو سے