تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 278
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۸ سورة طه اسی لئے اس کو غیر مخلوق کہتے ہیں۔ ورنہ ایک مجسم چیز خدا کی خالقیت سے کیوں کر باہر رہ سکتی ہے اور عرش کی نسبت جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ سب استعارات ہیں ۔ پس اسی سے ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ایسا اعتراض محض حماقت ہے۔ اب ہم فرشتوں کے اٹھانے کا اصل نکتہ ناظرین کو سناتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے تنزہ کے مقام میں یعنی اس مقام میں جب کہ اُس کی صفت تنزہ اُس کی تمام صفات کو روپوش کر کے اُس کو وراء الوراء اور نہاں در نہاں کر دیتی ہے۔ جس مقام کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں عرش ہے تب خدا عقول انسانیہ سے بالاتر ہو جاتا ہے اور عقل کو طاقت نہیں رہتی کہ اُس کو دریافت کر سکے تب اُس کی چار صفتیں جن کو چار فرشتوں کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جو دنیا میں ظاہر ہو چکی ہیں اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہیں ۔ - (۱) اول ربوبیت جس کے ذریعہ سے وہ انسان کی روحانی اور جسمانی تکمیل کرتا ہے چنانچہ روح اور جسم کا ظہور ربوبیت کے تقاضا سے ہے اور اسی طرح خدا کا کلام نازل ہونا اور اُس کے خارق عادت نشان ظہور میں آنار بوبیت کے تقاضا سے ہے (۲) دوم خدا کی رحمانیت جو ظہور میں آچکی ہے یعنی جو کچھ اُس نے بغیر پاداش اعمال بیشمار نعمتیں انسان کے لئے میسر کی ہیں یہ صفت بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے (۳) تیسری خدا کی رحیمیت ہے اور وہ یہ کہ نیک عمل کرنے والوں کو اول تو صفت رحمانیت کے تقاضا سے نیک اعمال کی طاقتیں بخشتا ہے اور پھر صفت رحیمیت کے تقاضا سے نیک اعمال اُن سے ظہور میں لاتا ہے اور اس طرح پر ان کو آفات سے بچاتا ہے۔ یہ صفت بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے (۴) چوتھی صفت ملِكِ يَوْمِ الدین ہے یہ بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا دیتا ہے۔ یہ چاروں صفتیں ہیں جو اُس کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں یعنی اُس کے پوشیدہ وجود کا ان صفات کے ذریعہ سے اس دنیا میں پتہ لگتا ہے اور یہ معرفت عالم آخرت میں دو چند ہو جائے گی گویا بجائے چار کے آٹھ فرشتے ہو جائیں گے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۷ ۲۷ تا ۲۷۹) اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى ( اس سوال کے جواب میں کہ کیا خدا آسمان پر ہے فرمایا : ( اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے مگر لَهُ الأَسْمَاءُ الْحُسْنٰی ۔ اس نے اپنے آپ کو علو ہی سے منسوب کیا ہے پستی کی طرف اس کو منسوب نہیں کر سکتے سبحانه و تعالى علو علو کوہ کو ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور کشفی صورتوں میں آسمان سے نور نازل ہوتا ہوا دیکھا ہے گو ہم