تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 277
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۲۷۷ سورة طه بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة طه بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى ۔ خدا رحمن ہے جس نے عرش پر قرار پکڑا اس قرار پکڑنے سے یہ مطلب ہے کہ اگر چہ اُس نے انسان کو پیدا کر کے بہت سا قرب اپنا اُس کو دیا مگر یہ تمام تجلیات مختص الزمان ہیں یعنی تمام تشبیبی تجلیات اُس کی کسی خاص وقت میں ہیں جو پہلے نہیں تھیں مگر از لی طور پر قرارگاہ خدا تعالیٰ کی عرش ہے جو تنزیہ کا مقام ہے کیونکہ جو فانی چیزوں سے تعلق کر کے تشبیہ کا مقام پیدا ہوتا ہے وہ خدا کی قرارگاہ نہیں کہلا سکتا وجہ یہ کہ وہ معرض زوال میں ہے اور ہر ایک وقت میں زوال اُس کے سر پر ہے بلکہ خدا کی قرارگاہ وہ مقام ہے جو فنا اور زوال سے پاک ہے پس وہ مقام عرش ہے۔ اس جگہ ایک اور اعتراض مخالف لوگ پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ قرآن شریف کے بعض مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے جس سے اشارۃ النص کے طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں چار فرشتے عرش کو اٹھاتے ہیں اور اب اس جگہ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ تو اس بات سے پاک اور برتر ہے کہ کوئی اُس کے عرش کو اٹھاوے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ابھی تم سن چکے ہو کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں ہے جو اٹھائی جائے یا اٹھانے کے لائق ہو بلکہ صرف تنزہ اور تقدس کے مقام کا نام عرش ہے