تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 243
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۳ سورة الكهف يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَ نُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَهُمْ جَمْعًا - موجودہ آزادی کی وجہ سے انسانی فطرت نے ہر طرح کے رنگ ظاہر کر دیتے ہیں اور تفرقہ اپنے کمال کو پہنچ گیا ہے۔ گو یا ایسا زمانہ ہے کہ ہر شخص کا ایک الگ مذہب ہے۔ یہی امور دلالت کرتے ہیں کہ اب نفخ صور کا وقت بھی یہی ہے اور فَجَمَعْتُهُمْ جَمْعًا کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا یہی زمانہ۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۰ مورخه ۲۶ را پریل ۱۹۰۸ء صفحه ۲) انبیاء جو آتے ہیں وہ کرناء کا حکم رکھتے ہیں۔ نفخ صور سے یہی مراد تھی کہ اس وقت ایک مامور کو بھیجا جائے گا وہ سنا دے گا کہ اب تمہارا وقت آگیا ہے۔ کون کسی کو درست کر سکتا ہے جب تک کہ خدا درست نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ایک قوت جاذبہ عطا کرتا ہے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ خدا کے کام کبھی حبط نہیں جاتے۔ ایک قدرتی کشش کام کر دکھائے گی ۔ اب وہ وقت آگیا ہے؟ ہے جس کی خبر تمام - انبیاء ابتداء سے دیتے چلے آئے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے فیصلہ کا وقت قریب ہے اس سے ڈرو اور توبہ کرو۔ ( بدر جلدے نمبر ۲ مورخہ ۱۶ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۹۰۸) فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَ نُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْتُهُمْ جَمْعًا ( الكهف : ۹۹ ، ۱۰۰ ) الجزو نمبر ۱۶ یعنی جب وعدہ خدا تعالیٰ کا نزدیک آجائے گا تو خدا تعالیٰ اس دیوار کو ریزہ ریزہ کر دے گا جو یا جوج ماجوج کی روک ہے اور خدا تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور ہم اس دن یعنی یا جوج ماجوج کی سلطنت کے زمانہ میں متفرق فرقوں کو مہلت دیں گے کہ تا ایک دوسرے میں موجزنی کریں یعنی ہر ایک فرقہ اپنے مذہب اور دین کو دوسرے پر غالب کرنا چاہے گا اور جس طرح ایک موج اس چیز کو اپنے نیچے دبانا چاہتی ہے جس کے اوپر پڑتی ہے اسی طرح موج کی مانند بعض بعض پر پڑیں گی تا ان کو دبا لیں اور کسی کی طرف سے کمی نہیں ہوگی ہر ایک فرقہ اپنے مذہب کو عروج دینے کے لئے کوشش کرے گا اور وہ انہیں لڑائیوں میں ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے صور پھونکا جائے گا۔ تب ہم تمام فرقوں کو ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے۔ صور پھونکنے سے اس جگہ یہ اشارہ ہے کہ اس وقت عادت اللہ کے موافق خدا تعالیٰ کی طرف سے آسمانی تائیدوں کے ساتھ کوئی مصلح پیدا ہو گا اور اس کے دل میں زندگی کی روح پھونکی جائے گی اور وہ زندگی دوسروں میں سرایت کرے گی ۔ یاد رہے کہ صور کا لفظ ہمیشہ عظیم الشان تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے گویا جب خدا تعالیٰ اپنی مخلوقات کو ایک صورت سے منتقل کر کے دوسری صورت میں لاتا ہے تو اس تغیر صور کے وقت کو نفخ صور سے تعبیر کرتے ہیں اور اہل کشف پر مکاشفات کی رو