تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 242
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۲ سورة الكهف ا لفظ بت اور جمع آپس میں پورا تناقض رکھتے ہیں گویا دائرہ پورا ہو کر پھر وہی زمانہ ہو جائے گا پہلے تو وحدت شخصی تھی اب اخیر میں وحدت نوعی ہو جائے گی ۔ اس سے آگے فرماتا ہے وَ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَينِ لِلْكَفِرِينَ عَرْضًا ۔ یہ مسیح موعود کے زمانے کا ایک اور نشان بتلایا کہ اس دن جہنم پیش کیا جاوے گا ان کافروں پر ۔ یہ قیامت کا ذکر نہیں کیونکہ اس دن جہنم کا پیش کیا کرنا ہے اس روز تو اس میں کفار داخل ہوں گے۔ جہنم سے مراد طاعون ہے چنانچہ ہمارے الہامات میں کئی بار طاعون کو جہنم فرمایا گیا ہے۔ يأتي على جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَّيْسَ فِيهَا أَحَدٌ بھی ایک الہام ہے اللہ تعالیٰ نے دو فرقوں کا ذکر فرمادیا ایک تو وہ سعید جنہوں نے مسیح کو قبول کیا دوسرے وہ شقی جو مسیح کا کفر کرنے والے ہوں گے ۔ ان کے لئے فرمایا کہ ہم طاعون بطور جہنم بھیجیں گے اور نُفِخَ فِي الصُّورِ سے یہ مراد ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں وحی کے ذریعہ ان میں آواز دی جاتی ہے اور پھر آواز ان کی معرفت تمام جہان میں پہنچتی ہے پھر ان میں ایک ایسی کشش پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ باجود اختلاف خیالات و طبائع و حالات کے اس کی آواز پر جمع ہونے لگتے ہیں اور آخر کا روہ زمانہ آجاتا ہے کہ ایک ہی گلہ اور ایک ہی گلہ بان ہو۔ خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے خود ہی ایسے اسباب مہیا کر دیتے ہیں کہ جس سے تمام سعید روحیں ایک دین پر جمع ہوسکیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا گیا تھا : ( قُلْ ) يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا (الاعراف: ۱۵۹) ایک طرف یہ جَمِيعًا اور دوسری طرف جَمَعْتُهُمْ جَمْعًا ایک خاص علاقہ رکھتا ہے ۔ ( بدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه (۳) ۔ الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاء عَنْ ذِكْرِى وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَبْعاً ذکر سے مراد یہ ہے کہ جو میں نے ان کو ا۔ ن کو اپنے مامور کی معرفت یاد کیا۔ خدا کا یاد کرنا یہی ہوتا ہے کہ اپنی طرف سے ایک مصلح کو بھی بھیج دیا سواس مامور سے وہ غفلت میں رہے۔ ان کی آنکھوں کے آگے طرح طرح کے شبہات کے حجاب چھائے رہے اور حق کا نور نظر نہ آیا۔ یہ کیوں کہ جوش تعصب سے ان کی ایسی حالت ہوگئی جو وہ اس مامور کی بات کو سن ہی نہیں سکتے ( وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَبْعًا ) اب ان لوگوں کی حالت یہی ہو رہی ہے اور اس کی سزا بھی وہی مل رہی ہے جو قرآن مجید میں ہے کہ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَفِرِينَ عَرْضًا - ( بدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه (۳) اصل بات یہ ہے کہ یہ وہ زمانہ آگیا ہے کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے کہ وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ