تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 196
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۶ سورة الكهف الْقَرْيَةَ چاہتا ہے کہ ابتداء میں خوفناک صورتیں ہوں ۔ اصحاب کہف کی نسبت یہی ہے فَرُوا إِلَى الْكَهْفِ اور اور جگہ وَاوَيْنَهُمَا إِلى رَبوَةٍ - (المؤمنون : ۵۱) ان تمام مقامات سے یہی مطلب ہے کہ قبل اس کے کہ خدا تعالیٰ آرام دیوے مصیبت اور خوف کا نظارہ پیدا ہو جاوے۔ البدر جلد ا نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ ، نومبر و ۱۵ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۳۶) اوی کا لفظ عربی زبان میں اُس پناہ دینے کو کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی حد تک مصیبت رسیدہ ہو کر پھر امن میں آجاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيمًا فَالى (الضحیٰ (۷) یعنی خدا نے تجھے یتیم پایا اور یتیمی کے مصائب میں تجھے مبتلا دیکھا پھر پناہ دی اور جیسا کہ فرماتا ہے : أَوَيُنْهُمَا إِلى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِين (المؤمنون : ۵۱) یعنی ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو بعد اس کے جو یہودیوں نے ان پر ظلم کیا اور حضرت عیسیٰ کو سولی دینا چاہا۔ ہم نے عیسیٰ اور اس کی ماں کو پناہ دی اور دونوں کو ایک ایسے پہاڑ پر پہنچادیا جو سب پہاڑوں سے اونچا تھا یعنی کشمیر کا پہاڑ جس میں خوشگوار پانی تھا اور بڑی آسائش اور آرام کی جگہ تھی اور جیسا کہ سورۃ الکہف میں یہ آیت ہے فاوا إِلَى الْكَهْفِ يَنْشُرُ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ رَّحْمَتِه (الجز نمبر ۱۵ سوره کهف ) یعنی غار کی پناہ میں آجاؤ۔ اس طرح پر خدا اپنی رحمت تم پر پھیلائے گا یعنی تم ظالم بادشاہ کی ایذا سے نجات پاؤ گے۔ غرض اوی کا لفظ ہمیشہ اس موقعہ پر آتا ہے کہ جب ایک شخص کسی حد تک کوئی مصیبت اُٹھا کر پھر امن میں داخل کیا جاتا ہے۔ ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۴۳، ۲۴۴) وَ تَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ تَزْوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَ إِذَا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِنْهُ ذَلِكَ مِنْ أَيْتِ اللَّهِ مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۚ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا جیسے جسمانی پیدائش کی ابتدا خدا ہی کی طرف سے ہے روحانی پیدائش کی ابتدا بھی خدا کی ہی طرف سے ہے - يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ (النحل : ۹۴) جس کو وہ بلاتا ہے وہ دوسرے کی بھی سن لیتا ہے مگر جس کو وہ نہیں بلاتا وہ کسی کی نہیں سنتا جیسا کہ خود اس نے فرمایا ہے مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۚ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرشِدا یعنی ہدایت وہی پاتا ہے جس کو خدا ہدایت دے اور جس کو خدا گمراہ رکھنا مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۷۰) چاہتا ہے اس کو کوئی مرشد ہدایت نہیں دے سکتا۔