تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 195
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۵ سورة الكهف براہین احمدیہ چہار احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۰۶ حاشیہ نمبر ۱۱) کی حقیقت ضدہی سے شناخت کی جاتی ہے اور نیکوں کا قدر و منزلت بدوں ہی سے معلوم ہوتا ہے۔ أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ ايْتِنَا عَجَبًا کیا تم خیال کرتے ہو کہ ہمارے عجیب کام فقط اصحاب کہف تک ہی ختم ہیں ۔ نہیں بلکہ خدا تو ہمیشہ صاحب عجائب ہے اور اس کے عجائبات کبھی منقطع نہیں ہوتے ۔ براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۷۰ حاشیه در حاشیہ نمبر (۴) میں دیکھتا ہوں براہین میں میرا نام اصحاب الکہف بھی رکھا ہے۔ اس میں یہ ستر ہے کہ جیسے وہ مخفی تھے اسی طرح پر تیرہ سو برس سے یہ راز مخفی رہا اور سی پر نہ کھلا اور ساتھ اس کے جو رقیمہ کا لفظ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود خفی ہونے کے اس کے ساتھ ایک کتبہ بھی ہے اور وہ کتبہ یہی ہے کہ تمام نبی اس کے متعلق پیشگوئی کرتے چلے آئے ہیں ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۵ صفحه ۲) میں یہ نہیں کہتا کہ حیات مسیح کے متعلق اسی زمانہ کے لوگوں پر الزام ہے۔ نہیں بعض پہلوں نے غلطی کھائی ہے مگر وہ تو اس غلطی میں بھی ثواب ہی پر رہے کیونکہ مجتہد کے متعلق لکھا ہے قَدْ يُخْطِئُ وَ يُصِيبُ کبھی مجتہد غلطی بھی کرتا ہے اور کبھی صواب مگر دونوں طرح پر اسے ثواب ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مشیت ایزدی نے یہی چاہا تھا کہ ان سے یہ معاملہ مخفی رہے۔ پس وہ غفلت میں رہے اور اصحاب کہف کی طرح یہ حقیقت ان پر مخفی رہی جیسا کہ مجھے بھی الہام ہوا تھا أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ ايْتِنَا عَجَبًا - - اسی طرح مسیح کی حیات کا مسئلہ بھی ایک عجیب سر ہے۔ باوجود یکہ قرآن شریف کھول کھول کر مسیح کی وفات ثابت کرتا ہے اور احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جو آیت استدلال کے طور پر پڑھی گئی وہ بھی اسی کو ثابت کرتی ہے مگر باوجود اس قدر آشکارا ہونے کے خدا تعالیٰ نے اس کو مخفی کر لیا اور آنے والے موعود کے لئے اس کو خفی رکھا چنانچہ جب وہ آیا تو اس نے اس راز کو ظاہر کیا۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۶ صفحه (۳) وَ إِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلَّا اللهَ فَاذَا إِلَى الْكَهْفِ يَنْشُرُ لَكُمْ رَبُّكُمُ مِنْ رَّحْمَتِهِ وَيُهَيِّئُ لَكُمْ مِّنْ أَمْرِكُمْ مِرْفَقًا قرآنی آیات سے پتہ لگتا ہے کہ اُوی کا لفظ یہ چاہتا ہے کہ اول کوئی مصیبت واقع ہو۔ اسی طرح انه اوی