تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 180
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام دیا اور اس وعدہ کا کچھ پاس نہ کیا۔ یہ ۱۸۰ سورة بني اسراءيل لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۰) یہ پکی بات ہے کہ کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھ جانے کا معجزہ مانگا۔ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو ہر طرح کامل اور افضل تھے۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ آسمان پر چڑھ جاتے مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے کیا جواب دیا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا اس کا مفہوم یہ ہے کہ کہہ دو اللہ تعالیٰ اس امر سے پاک ہے کہ وہ خلاف وعدہ کرے جبکہ اس نے بشر کے لئے آسمان پر مع جسم کے جانا حرام کر دیا ہے۔ اگر میں جاؤں تو جھوٹا ٹھیروں گا۔ اب اگر تمہارا یہ عقیدہ صحیح ہے کہ مسیح آسمان پر چلا گیا ہے اور کوئی بالمقابل پادری یہ آیت پیش کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرے تو تم اس کا کیا جواب دے سکتے ہو؟ (الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۱ مورخه ۳۰ نومبر ۱۹۰۶ ء صفحه ۵) فَانْظُرِ اقْتِدَاء لِهَذَا الْقَانُونِ تو اس محفوظ قانون کی پیروی کرتے ہوئے جو ہمیں الْعَاصِمِ الَّذِي بَلَغَنَا مِنْ رَّسُولِ الله رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچا ہے غور کر کیا تو مسیح کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَلْ تَجِدُ جسم عنصری کے ساتھ اوپر چڑھنے اور ان کے آسمان سے دو لِقِصَّةِ صُعُودِ الْمَسِيحِ مَعَ جِسْمِهِ فرشتوں کے پروں پر دونوں ہاتھ رکھے ہوئے اُترنے کے قصہ الْعُنْصُرِي وَلِقِصَّةِ نُزُولِهِ مِنَ السَّمَاء کی کوئی بنیاد یا ثبوت قرآن مجید میں پاتا ہے؟ یا اس قصہ سے وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى جَنَاحَ الْمَلَكَيْنِ مشابہ کوئی اور قصہ پاتا ہے؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید اس أَصْلًا أَوْ أَثَرًا فِي الْقُرْآنِ أَوْ قِصَّةً ما دنیا میں اس قسم کے افعال سے اللہ تعالیٰ کی شان کو منزہ قرار دیتا يُشَابِهُ هَذِهِ الْقِصَّةَ بَلِ الْقُرْآنُ يُنَزِّهُ ہے اور فرماتا ہے : قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا شَأْنَ اللهِ عَنْ مِثْلِ تِلْكَ الْأَفْعَالِ فِي رَسُولًا اے رسول تو انہیں کہہ کہ میرا رب ایسی بیہودہ باتوں هَذِهِ الدُّنْيَا وَيَقُولُ قُلْ سُبْحَانَ رَبّی کے اختیار کرنے سے پاک ہے میں تو صرف بشر رسول ہوں هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا ۔ آسمان پر نہیں جا سکتا۔ ( ترجمہ از مرتب ) (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۱۸، ۲۱۹) ایک طرف حضرت عیسی کو خدا تعالیٰ کی طرح وحدہ لاشریک سمجھتے ہیں ۔ وہی ہے جو مع جسم عنصری آسمان پر گیا اور وہی ہے جو کسی دن مع جسم عنصری زمین پر آئے گا اور اسی نے پرندے پیدا کئے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کافروں نے قسمیں کھا کر بار بار سوال کیا کہ آپ مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ کر دکھلا ہیئے ہم